تنزانیہ کی صدر سامعہ صلوحو حسن نے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد پیر کے روز اپنی پہلی منتخب مدت کے لیے عہدے کا حلف اٹھا لیا جس سے ملک بھر میں مہلک مظاہروں کا آغاز ہو گیا۔
حسن جو 2021 میں اپنے پیشرو کی موت کے بعد اقتدار میں آئی تھیں، کو گذشتہ ہفتے کے انتخابات میں 97.66 فیصد ووٹوں کے ساتھ فاتح قرار دیا گیا تھا۔
سر پر سرخ سکارف اور سیاہ چشمہ پہنے ہوئے انہوں نے انتظامی دارالحکومت ڈوڈوما میں فوجی مرکز پر ایک تقریب میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔
دو سب سے بڑی اپوزیشن جماعتوں کے امیدواروں اور اہم حریفوں کو انتخابی دوڑ کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا جس کے بعد انہوں نے صرف معمولی جماعتوں کے امیدواروں کے خلاف مقابلہ کیا۔
عینی شاہدین کے مطابق گذشتہ بدھ کی ووٹنگ کے دوران پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے جن میں بعض مظاہرین نے سرکاری عمارات کو آگ لگا دی اور پولیس نے آنسو گیس اور گولیاں چلائیں۔
حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت نے کہا ہے کہ مظاہروں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق تین شہروں میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے۔
حکومت نے اپوزیشن کی بیان کردہ ہلاکتوں کی تعداد کو "انتہائی مبالغہ آمیز" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ رائٹرز آزادانہ طور پر ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کر سکا۔
-
تنزانیہ کی صدر نے ہلاکت خیز مظاہروں کے درمیان بھاری اکثریت سے انتخابات جیت لیے
انٹرنیٹ بند اور کرفیو نافذ، سربراہِ اقوامِ متحدہ کا ملکی حالات پر اظہارِ تشویش
بين الاقوامى -
ترکی کی جانب سے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے اتحادیوں کی میزبانی
جیسا کہ غزہ جنگ بندی کے نازک معاہدے کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں تو ترکیہ پیر کے ...
مشرق وسطی -
حماس غزہ جنگ بندی پر قائم رہنے کے لیے ’پُرعزم‘ ہے: ایردوآن
ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے پیر کو کہا ہے کہ حماس غزہ جنگ بندی پر قائم رہنے کے ...
بين الاقوامى