ترکی کی جانب سے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے اتحادیوں کی میزبانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جیسا کہ غزہ جنگ بندی کے نازک معاہدے کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں تو ترکیہ پیر کے روز اعلیٰ سفارت کاروں کی میزبانی کر رہا ہے تاکہ وہ غزہ کے مستقبل کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکیں۔

اس سلسلے میں ترک وزارتِ خارجہ کے ذرائع نے کہا ہے کہ انقرہ سفارت کاروں پر زور دے گا کہ وہ ساحلی علاقے کی سکیورٹی اور حکمرانی کا کنٹرول فلسطینیوں کو دینے کے منصوبوں کی حمایت کریں۔

ہفتے کے آخر میں وزیرِ خارجہ خاقان فیدان نے حماس کے وفد کا خیر مقدم کیا جس کی قیادت فلسطینی تحریک کے مرکزی مذاکرات کار خلیل الحیۃ کر رہے تھے۔

فیدان نے زور دیتے ہوئے کہا، "ہمیں غزہ میں قتلِ عام کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ جنگ بندی از خود کافی نہیں ہے۔ غزہ پر فلسطینیوں کی حکومت ہونی چاہیے۔"

ترک-اسرائیل کشیدگی

توقع ہے کہ فیدان اسرائیل سے غزہ میں مزید انسانی امداد کی اجازت دینے کے مطالبات کا اعادہ کریں گے جہاں امدادی ایجنسیوں نے شکایت کی ہے کہ علاقے کے بعض حصوں میں قحط کی صورتِ حال کو بہتر کرنے کے لیے ان کے قافلوں کو بدستور کافی رسائی حاصل نہیں ہے۔

حماس کے انقرہ سے قریبی تعلقات کی بنا پر اسرائیل طویل عرصے سے ترکی کے سفارتی اقدامات کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہا ہے اور اس نے جنگ بندی کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی امن فوج میں ترکی کے کسی بھی کردار کی سخت مخالفت کی ہے۔

انقرہ کے مطابق تباہی سے نمٹنے والی ایک ترک امدادی ٹیم اسرائیلی حکومت کی جانب سے داخلے کی اجازت نہ ملنے کے باعث سرحد پر پھنس گئی ہے۔ اسے غزہ میں ملبے تلے دبے ہوئے فلسطینیوں بشمول ہلاک شدہ اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں نکالنے کی کوششوں میں مدد کے لیے بھیجا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں