خلیجی ممالک میں تعلقات کو مستحکم بنانے کے لیے بھارت بحرین کی مدد کا طلبگار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ اس کی کوشش ہے کہ بحرین بھارت کو خلیجی ممالک میں مختلف تجارتی و ترقیاتی شعبوں میں آگے بڑھ کر کام کرنے میں مدد دے۔ تاکہ بھارت کی خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک میں دسترس میں مزید اضافہ ہو۔

وزیر خارجہ بھارت نے یہ بات پیر کے روز بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف الزایانی کے ساتھ نئی دہلی میں ملاقات کے دوران کہی ہے۔

بحرینی وزیر خارجہ اتوار کے روز نئی دہلی کے دورے پر آئے تھے۔ تاکہ بحرین اور بھارت کے درمیان اعلیٰ سطح کے جوائنٹ کمیشن کی مشترکہ سربراہی کرتے ہوئے اجلاس میں شریک ہوں۔

دونوں ملکوں کے درمیان یہ جوائنٹ کمیشن 2018 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ کمیشن دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے اور اداراتی سطح پر تعاون کو ایک میکانزم دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

جے شنکر نے اس اجلاس کے موقع پر کہا جوائنٹ کمیشن کے پچھلے اجلاس کے موقع پر دو طرفہ دفاع کے سلسلے میں نمایاں پیش رفت ہوئی تھی۔ اسی طرح سیکیورٹی کے علاوہ تجارت ، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں بھی دو طرفہ عوامی روابط کو بڑھانے پر اتفاق ہوا تھا۔ لیکن اس کے علاوہ بھی بعض ایسے شعبے ہیں جس میں دونوں ملک ایک دوسرے سے تعاون کر سکتے ہیں۔ خصوصا سپیس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہم اپنے شراکت دار بحرین کے ساتھ تعاون کو بڑھانا چاہتے ہیں۔

جے شنکر نے اس موقع پر واضح لفظوں میں کہا کہ ہمیں خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بحرین کی مدد کی ضرورت ہے۔

یاد رہے بھارت کا خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں کے ساتھ 'فری ٹریڈ' کا ایک معاہدہ پچھلی دو دہائیوں سے چلا آرہا ہے۔ اس تعاون کے معاہدے پر 2004 میں دستخط ہوئے تھے اور اس سلسلے میں 2006 اور 2008 میں بھی بات چیت ہو چکی ہے۔

'جی سی سی' کے سیکرٹری جنرل نے 2025 کے شروع میں اعلان کیا تھا کہ 'جی سی سی' اس سال بھارت کے ساتھ 'فری ٹریڈ' کے سلسلے میں بات چیت کو نئے سرے سے شروع کرے گی۔

امکانی طور پر اس معاہدے کے نتیجے میں بھارت کو عرب ملکوں کی مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر اثر و رسوخ میسر آسکے گا اور بھارتی اشیاء کی خلیجی ملکوں میں موجودگی کو تقویت ملے گی۔

یاد رہے اس خطے میں 90 لاکھ بھارتی کارکن مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کام کر رہے ہیں۔ جبکہ 3 لاکھ 32 ہزار بھارتی کارکن بحرین میں کام کر رہے ہیں جبکہ بحرین کی کل آبادی 15 لاکھ ہے۔ یوں بحرین میں بھارتی شہریوں کی تعداد ایک چوتھائی بنتی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ بحرین 'جی سی سی' کی سپریم کونسل کی صدارت سنبھالنے والا ہے اور اگلا 'جی سی سی' کا سربراہی اجلاس دسمبر 2025 میں مناما میں متوقع ہے۔

'جی سی سی' کی صدارت ملنے کے نتیجے میں بھارت بحرین سے زیادہ توقعات وابستہ کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے تجارتی تعلقات کو خلیج میں وسعت دے سکے۔

جے شنکر نے مزید کہا ہم خلیجی خطے میں اپنے رابطوں کو بڑھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں