کاری، آمدن اور مستقبل کے بارے میں حکمتِ عملی طے کر سکیں۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ شہر چھوڑنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔
ایک مالیاتی کمپنی مورگن اسٹینلی کے مشیر نے بتایا کہ فلوریڈا اور کونیٹی کٹ دولت مندوں کے لیے ممکنہ متبادل مقامات ہیں، تاہم ہر کسی کے لیے منتقل ہونا آسان نہیں۔ فلوریڈا میں ٹیکس کم ہیں لیکن وہاں کا گرم موسم سب کو پسند نہیں آتا، جبکہ کونیٹی کٹ میں رہائش کے مواقع محدود اور قیمتیں زیادہ ہیں۔
تشویش کی بنیادی وجہ ممدانی کی بائیں بازو کی نظریاتی پالیسیوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے بارے میں خیال ہے کہ وہ امیروں پر "ملینیئر ٹیکس" عائد کر کے سماجی بہبود کے منصوبے مثلا سستا کھانا، مفت نقل و حمل اور کرایہ منجمد کرنا ... شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ اقدامات سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقے کو بد ظن کر سکتے ہیں، جس سے جائیداد کی قیمتوں اور معیارِ زندگی پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
دوسری طرف کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ممدانی چونکہ سیاست میں نئے ہیں، اس لیے ریاستی حکومت اور نیویارک کی معتدل قانون سازی، ان کے سخت پالیسی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے سے روک سکتی ہے۔ تاہم دیگر مبصرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ممدانی کو مقامی کونسل کی حمایت مل گئی تو وہ بآسانی اپنے اصلاحی منصوبے آگے بڑھا سکتے ہیں۔
-
ظہران ممدانی حماس کے حامی ہیں، نیویارک کے یہودی اسرائیل آ کر اپنا نیا گھر بسائیں: اسرائیلی
اسرائیلی تارکینِ وطن کے امور کے وزیر امیخائے چکلی نے ظہران ممدانی کو فلسطینی تنظیم ...
بين الاقوامى -
ظہران ممدانی کی جیت پر یوگنڈا میں بھی احساس فخر
افریقی ملک یوگنڈا کے بہت سے شہری بدھ کے روز یہ خبر سن کر خوش ہوئے کہ ان کا ہم وطن ...
بين الاقوامى -
ممدانی کے میئر بننے پر بھارت میں بھی خوشیاں اور مبارکبادیاں
بھارت میں بھی ظہران ممدانی کی بطور میئر نیو یارک فتح کا جشن منایا گیا۔ یہ خوشی ...
بين الاقوامى