بشار الاسد کے سابق حکام لبنان میں موجود ، کچھ وہاں سے روس پہنچے ... ذرائع کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

تقریباً ایک سال قبل شام کے سابق نظام حکومت کو اقتدار سے محروم کر دیا گیا تھا۔ تاہم اب بھی اس حوالے سے سوالات موجود ہیں کہ اس نظام کے اہم عہدے داران جن پر شامی عوام کے خلاف جرائم کے الزامات ہیں ... کہاں چلے گئے اور کیسے غائب ہو گئے۔

امریکی نیوز چینل "سی این این" کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ شامی فوج کا سابق جنرل بسام الحسن جو دسمبر 2024 میں نظام کے خاتمے کے بعد فرار ہوگیا تھا، اس وقت بیروت میں موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق لبنان بعض اہم شامی عہدے داروں کے لیے ایک عبوری گزرگاہ بنا جنھوں نے بعد میں ماسکو کا رخ کیا۔ ان میں علی مملوک (سابق سربراہ قومی سلامتی)، محمد محلّا (سابق سربراہ فوجی انٹیلی جنس) اور غیاث دلا (ماہر الاسد کے زیرِکمان چوتھی ڈویژن کا افسر) شامل ہیں۔ ان افراد کو بیروت سے ماسکو فرار ہوتے دیکھا گیا۔

جميل الحسن
جميل الحسن

ادھر عبدالسلام محمود جو فضائی انٹیلی جنس کے تحقیقاتی شعبے کے سربراہ تھے، شام سے لبنان اور پھر ایران پہنچ گئے۔ جبکہ علی ضاہر جو کِفاح ملحم کے دفترِ سلامتی سے وابستہ تھے، ابھی تک جبل لبنان میں مقیم ہیں۔

حال ہی میں لبنانی عدلیہ کو ایک فرانسیسی عدالتی استدعا موصول ہوئی ہے، جس میں تین سابق شامی سیکیورٹی عہدیداروں جميل الحسن، علی مملوك اور عبدالسلام محمود کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ فرانس نے ان پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے ہیں اور بیروت سے لبنان میں ان کے ممکنہ قیام کی تحقیقات کا کہا ہے۔

مہر الاسد اور علی مملوک (خصوصی - العربیہ ڈاٹ نیٹ)
مہر الاسد اور علی مملوک (خصوصی - العربیہ ڈاٹ نیٹ)

سیاسی تجزیہ کار نضال السبع کے مطابق عالمی پولیس انٹرپول نے شامی نظام کے سقوط کے فوراً بعد لبنان کو مطلع کیا تھا کہ جميل الحسن، عبدالسلام محمود اور دیگر تیس افسران لبنان میں ہیں۔ ان میں سے حسن کی حوالگی کا مطالبہ امریکا نے بھی کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ فرانس کی تازہ استدعا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان افسران کے لبنان میں موجود ہونے کے شواہد مل چکے ہیں۔

علي مملوک
علي مملوک

ذرائع کا کہنا ہے کہ جميل الحسن لبنان کے ایک دیہی علاقے میں روپوش ہیں اور اپنی رہائش گاہ سے باہر نہیں نکلتے۔ اسی دوران علی مملوك کے اہلِ خانہ بیروت میں رہائش پذیر ہیں اور وہاں ان کے کاروباری مفادات بھی موجود ہیں، جب کہ ان کے بھائی کینسر کے علاج کے لیے بیروت کے ایک اسپتال میں زیرِعلاج ہیں۔

مزید انکشاف ہوا کہ بسام الحسن، جو کیمیائی حملوں اور امریکی صحافی آسٹن ٹائس کے اغوا میں ملوث قرار دیا جاتا ہے۔ وہ پہلے لبنان پہنچا، پھر تہران کی مدد سے ایران گیا اور بعد میں دوبارہ بیروت لوٹ آیا۔ وہاں ایک امریکی تحقیقاتی ٹیم نے اس سے پوچھ گچھ کی، جس میں اس نے مبینہ طور پر بتایا کہ ٹائس کے قتل کا حکم خود بشار الاسد نے دیا تھا۔

امریکی صحافی آسٹن ٹائس (آرکائیو - اے ایف پی)
امریکی صحافی آسٹن ٹائس (آرکائیو - اے ایف پی)

شامی صحافی علیا منصور کے مطابق بشام الحسن سمیت کئی سابق افسر اب بھی لبنان میں ’’قانونی طور پر مقیم‘‘ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نظام کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی انتظامی افراتفری اور بعض لبنانی اداروں کے تعاون نے ان افسران کو لبنان فرار ہونے میں مدد دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں