رفح میں حماس کے عسکری ونگ سے وابستہ جنگجوؤں کے حوالے سے مصری ثالثوں نے تجویز کیا ہے کہ اسرائیل انہیں ہتھیار چھوڑنے کے بدلے میں غزہ کی پٹی کے دوسرے علاقوں میں جانے کے لیے محفوظ راستہ دیدے۔ تاکہ جنگ بندی کو رفح سے لاحق خطرے سے بچایا جا سکے۔
اس سلسلے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بات چیت سے متعلقہ دو مختلف ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی تجویز جو مسئلہ کے حل کرنے کے لیے ہے۔ کیونکہ وہ اسے تقریباً ایک ماہ سے جاری جنگ بندی کے ٹوٹ جانے کے خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
10 اکتوبر جب سے امریکی منصوبے کے مطابق جنگ بندی شروع ہوئی ہے اس میں اسرائیلی فورسز پر اب تک رفح میں کم از کم 2 حملے ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ان حملوں کا الزام حماس پر لگایا ہے۔ جبکہ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔
مصری ثالثوں کی طرف سے یہ تجویز کیا گیا ہے کہ جنگجوؤں کو ہتھیار چھوڑنے کے بدلے میں محفوظ راستہ دیا جائے۔ یہ جنگجو مصر کے سامنے اپنے ہتھیار چھوڑنے کو راضی ہیں اور ان سرنگوں کی معلومات بھی دینے کو تیار ہیں جو ان کے استعمال میں رہی ہیں تاکہ ان سرنگوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔ یہ بات مصر کے سیکیورٹی سے متعلق حکام نے بتائی ہے۔
اسرائیل اور حماس نے ابھی ان پروپوزلز کو قبول نہیں کیا۔ دو ذرائع کی اطلاع سے ہٹ کر ایک تیسرے ذریعے کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ زیر بحث ہے اور حل کی طرف جا رہا ہے۔
تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اس بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے ۔ دوسری جانب حماس کے غزہ میں ترجمان حازم قاسم نے بھی تبصرے سے انکار کیا ہے۔
اسرائیل نے رفح میں اپنے فوجیوں پر جنگ بندی کے بعد ہونے والے حملوں کو سب سے زیادہ پرتشدد قرار دیا ہے۔ حملوں کے نتیجے میں 3 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے۔ بعد ازاں اسرائیلی فوج نے غزہ میں بمباری کر کے درجنوں فلسطینیوں کو ہلاک کیا۔
دو ذرائع کا کہنا ہے کہ رفح میں موجود فلسطینی جنگجو یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ ان کا ماہ مارچ سے غزہ میں اپنے ساتھیوں سے رابطہ منقطع ہے اور وہ اس امر سے بھی بے خبر تھے کہ کوئی جنگ بندی معاہدہ ہو چکا ہے۔
ان میں سے ایک ذریعے نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ ان جنگجوؤں کو جنگ بندی کے مفاد میں یہاں سے نکلنے کا موقع دے دیا جائے۔ تاہم ذریعے نے جنگجوؤں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کا پہلا مرحلہ غزہ میں جنگ کو روکنا تھا۔ تاکہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی ممکن ہو سکے۔ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے طور پر لازم ہے کہ حماس اسرائیلی قیدیوں کے بعد اپنا اسلحہ بھی چھوڑے اور غزہ پر اپنا حکومتی کنٹرول بھی۔ جس پر ابھی اتفاق ہونا باقی ہے۔ البتہ حماس فلسطینی ٹیکنوکریٹ کی ایک کمیٹی کے حوالے انتظامی امور کرنے کو تیار ہے۔ جس کے ساتھ بین الاقوامی نگرانی کے لیے بین الاقوامی فوج کی تعیناتی بھی قبول ہے۔
اب تک حماس نے 20 زندہ اسرائیلی قیدیوں کے علاوہ 20 مردہ اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں بھی واپس اسرائیل بھیج دی ہیں۔ تاہم حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کو ملبے سے نکالنا اور تلاش کرنا انتہائی مشکل کام ہے اور اس میں وقت لگتا ہے۔ اس کے بدلے میں اسرائیلی فوج نے 250 فلسطینی اسیران کی لاشوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہائی دی ہے۔ اب تک مجموعی طور پر اسرائیلی فوجی بمباری سے غزہ 69000 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔ جبکہ 241 فلسطینی جنگ بندی کے بعد اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہوئے ہیں۔