نیویارک شہر کے میئر کے انتخاب میں امریکی سیاستدان زہران ممدانی کی جیت نے اسرائیل میں تشویش اور غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ نتائج سے ان کے فلسطینی حامی عوامی موقف اور اسرائیلی قبضے کی مخالفت کے باوجود ان کے لیے وسیع پیمانے پر عوامی حمایت کا انکشاف ہوا۔ یہ امریکی سیاست میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ اسرائیلی سیاسی حلقوں کو خدشہ ہے کہ ممدانی کی جیت، جس نے نیویارک میں تقریباً ایک تہائی یہودی ووٹروں کی حمایت حاصل کی، امریکی سیاسی ماحول خاص طور پر ڈیموکریٹس کی نوجوان نسل میں ایک بنیادی تبدیلی کا اشارہ دے رہی ہے۔ 2023 کی غزہ پر اسرائیلی جنگ کے باعث لوگوں کی رائے میں تبدیلی آئی ہے۔
اگرچہ ممدانی کی مہم مقامی مسائل جیسے کہ بڑھتے ہوئے کرائے اور بچوں کی دیکھ بھال کی خدمات کی کمی پر مرکوز تھی لیکن ان کے بیانات جو اسرائیل کو غزہ میں "نسل کشی" کے مرتکب قرار دیتے ہیں اور نیویارک جانے پر اسرائیلی وزیر اعظم کو گرفتار کرنے کے وعدے نے اسرائیلی حلقوں کو غصہ دلایا ہے۔ اسرائیلی حکام نے اس پر ’’یہود مخالف ‘‘ کا لیبل لگایا دیا جب کہ اسرائیلی وزیر برائے ڈاسپورا امور نے نیویارک کے یہودیوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیل ہجرت کریں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ شہر نے اپنی چابیاں حماس کے ایک حامی کے حوالے کر دی ہیں۔
جیوش پیپل پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ کار شموئیل روزنر نے ایک تجزیے میں کہا ہے کہ ایک ایسے شہر (نیویارک) میں بھی جہاں یہودی طاقت، پیسہ اور ثقافتی اور سیاسی اثر و رسوخ کا اتنا بڑا ارتکاز ہے۔ ایک امریکی کو واضح طور پر اسرائیل مخالف پلیٹ فارم کے ساتھ منتخب کیا جا سکتا ہے، ممدانی نے جو کچھ کیا ہے وہ ثابت کر سکتا ہے کہ اسرائیل کے حق میں کھڑا ہونا سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
یروشلم کی رہائشی ہانا یگر نے ممدانی کی فتح پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ یہودیوں کے لیے بہت بری خبر ہے۔ اسرائیل کے لیے سب کے لیے یہ بہت بری ہے، ہم اور کیا کہہ سکتے ہیں؟۔ فلسطینیوں کی جانب سے سیاست دان مصطفیٰ برغوثی نے کہا کہ ممدانی کا انتخاب واقعی متاثر کن ہے۔ یہ سیاسی اور سماجی ناانصافی کے خلاف، یہودی نوجوان نسل سمیت، امریکہ میں نوجوان نسل کے درمیان ایک بڑی بغاوت کی عکاسی کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممدانی کی جیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ امریکہ سمیت دنیا بھر میں ایک گھریلو انتخابی مسئلہ بن گیا ہے۔ اپنی طرف سے ممدانی نے سام دشمنی کا مقابلہ کرنے اور یہودی رہنماؤں کے ساتھ اتحاد بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اپنی فتح کی تقریر میں ممدانی نے یہودیوں سمیت شہر کے تمام باشندوں کی حفاظت کے اپنے ارادے کا ذکر کیا۔