سوڈانی فوج الابیض شہر میں ریپڈ سپورٹ فورسز کا مقابلہ کرنے میں مصروف

دارفور میں حکومت کے میڈیا ذمے دار نے شہر پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے کی تردید کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سوڈانی فوج نے اتوار کے روز جنوبی دارفور کے شہر نیالا کے ہوائی اڈے پر فضائی حملے کیے۔ شمالی کردفان کے شہر الابیض میں بھی فوج نے تعیناتی کی کارروائیاں انجام دیں اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے حملوں کا مقابلہ کیا۔

دوسری جانب دارفور میں حکومت کے میڈیا ذمے دار عقاد بن کونی نے العربیہ سے گفتگو میں اس خبر کی تردید کی کہ ریپڈ سپورٹ فورسز نے شمالی کردفان کے شہر الابیض پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج الابیض اور اس کے گردونواح میں تعینات ہے اور کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دے رہی ہے۔

دارفور کی حکومت کے اطلاعاتی افسر کے مطابق ریپڈ سپورٹ فورسز نے الفاشر شہر میں شہریوں کا محاصرہ کر رکھا ہے، انہیں شہر سے طویلہ کی سمت فرار ہونے سے روک رہی ہیں اور انسانی تنظیموں کو بے گھر افراد تک امداد پہنچانے سے بھی منع کر رہی ہیں۔

اس سے قبل اتوار کو سوڈانی فوج نے مغربی کردفان کے شہر بابنوسہ میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے حملوں کا سامنا کیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز نے شہر پر توپ خانے سے گولہ باری کی اور جنگی گاڑیوں کے ذریعے حملہ کیا، تاہم فوج نے ان حملوں کو پسپا کر دیا۔

سوڈانی فوج کے اہل کاروں نے سوشل میڈیا پر وڈیوز بھی جاری کیں جن میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کو پسپا کر دیا گیا ہے اور بابنوسہ کے گردونواح کے علاقوں کو کلیئر کیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے ایک امدادی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ فوج نے اتوار کو ریپڈ سپورٹ فورسز کے اس حملے کو ناکام بنایا جو مسلح افواج کی 22 ویں بریگیڈ پر کیا گیا تھا، تاہم حملے کے نتائج کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ فوج گزشتہ 22 ماہ سے شہر میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے حملوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔

بیان کے مطابق شہر اب "بھوتوں کا علاقہ" بن چکا ہے، کیونکہ یہ "مکمل طور پر خالی" ہو چکا ہے۔ فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جنوری 2024 سے جاری جھڑپوں کے نتیجے میں تقریباً 1 لاکھ 77 ہزار افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔

ہفتے کے روز مغربی کردفان میں ریپڈ سپورٹ فورسز نے اعلان کیا تھا کہ وہ بابنوسہ میں لڑائی کے لیے تیار ہیں۔ مزید یہ کہ وہ شہر پر قبضہ کریں گی اور فوج کو شکست دیں گی۔

چار نومبر 2024 کو سوڈانی فوج نے اعتراف کیا تھا کہ بابنوسہ میں ایک فوجی کارگو طیارہ فنی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا۔

بابنوسہ میں تعینات فوج کی 22 ویں بریگیڈ نے بیان میں بتایا کہ یہ طیارہ میدان میں موجود یونٹوں کے لیے امدادی سامان گرانے کے مشن پر تھا۔

حالیہ دنوں میں فوج بابنوسہ کے محصور علاقے میں موجود اپنی فورسز کی مدد کے لیے فضا سے امدادی سامان گرانے کے مشن انجام دے رہی ہے، جہاں اسے ریپڈ سپورٹ فورسز کے حملوں کا سامنا ہے۔

گزشتہ چند دنوں سے شمالی، مغربی اور جنوبی کردفان کی تینوں ریاستوں میں سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں