ترکیہ غزہ کی سرنگوں میں پھنسے ہوئے تقریباً 200 شہریوں کے لیے محفوظ راستے کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے اور اس نے قبل ازیں دس سال سے زائد عرصہ قبل وہاں ہلاک شدہ اسرائیلی فوجی کی واپسی میں سہولت فراہم کی، ایک سینیئر ترک اہلکار نے اتوار کو بتایا۔
حماس نے قبل ازیں کہا تھا کہ اسرائیل کے زیرِ قبضہ رفح کے علاقے میں چھپے ہوئے مزاحمت کار اسرائیل کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور اس نے اس بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے ثالثین پر زور دیا جس سے ایک ماہ پرانی جنگ بندی کو خطرہ ہے۔
اتوار کو علیحدہ طور پر اسرائیل نے کہا کہ اسے ایک فوجی افسر ہدر گولڈین کی باقیات موصول ہو گئیں جو 2014 کی اسرائیل-حماس جنگ کے دوران غزہ حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔
سینئر عہدیدار نے کہا، "جنگ بندی کے لیے حماس کے واضح عزم کا اظہار کرنے والی بھرپور کوششوں کے بعد" ترکیہ نے "11 سال بعد ہدر گولڈین کی باقیات کی اسرائیل واپسی میں کامیابی سے سہولت فراہم کی"۔
اہلکار نے رائٹرز کو بتایا، "اسی دوران ہم غزہ کے تقریباً 200 شہریوں کے محفوظ راستے کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں جو اس وقت سرنگوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔"
ترکیہ نے گذشتہ ماہ اسرائیل-حماس جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس کے فلسطینی گروپ سے قریبی تعلقات ہیں اور اس نے غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم پر شدید تنقید کی ہے۔