موریتانیا میں حکومت نے شادیوں اور دیگر تقریبات میں نوٹ اچھالنے کے رواج (الزَّرگ) پر پابندی عائد کر دی ہے۔ وزارتِ تجارت و سیاحت نے ایک فرمان جاری کرتے ہوئے کہا کہ تقریبات کے دوران نوٹ اچھالنا یا نچھاور کرنا اب ممنوع ہو گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت کارروائی کا سامنا ہو گا۔ حکومت نے وضاحت کی کہ یہ فیصلہ کسی خاص طبقے کے خلاف نہیں بلکہ ایک غیر مناسب سماجی رواج کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا ہے جو قانون اور شریعت دونوں کے منافی ہے۔
اس فیصلے نے ملک میں خاصا تنازع پیدا کر دیا ہے، خصوصاً فن کاروں اور شادی ہال مالکان میں جو اس پابندی سے براہِ راست متاثر ہوں گے۔ کچھ فن کاروں نے اس اقدام کی مخالفت کی، جبکہ مشہور گلوکارہ المعلومة بنت الميداح نے حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ نچھاور کرنے کا عمل فن اور فن کار کی توہین ہے۔ ان کے مطابق فن کار کا احترام یہ ہے کہ اس کے کام کی پیشگی اجرت طے کی جائے، نہ کہ اس پر پیسے اچھالے جائیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ رواج فن کاروں کی عزت کم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں خطرے میں بھی ڈالتی ہے، خاص طور پر ایک ایسے معاشرے میں جہاں غربت اور بے روزگاری عام ہے۔
بعض فن کاروں نے اس فیصلے کو اپنی معاشی زندگی پر حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریبات میں نوٹ اچھالنا ان کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہے، کیونکہ سرکاری یا طے شدہ ادائیگی اکثر نا کافی ہوتی ہے۔ گلوکارہ عليہ منت اعمر تيشيت نے صدر محمد ولد الغزوانی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظرِ ثانی کریں، کیونکہ یہ اقدام فن کاروں کو معاشی طور پر نقصان پہنچائے گا۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ نوٹ اچھالنے کی روایت فضول خرچی اور تفاخر کی علامت بن چکی ہے، جس کا خاتمہ معاشرتی اخلاقیات اور فن کاروں کی عزت دونوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔