رفح سرنگوں میں پھنسے حماس کے جنگجووں کے معاملے پر کشنر کی اسرائیلی حکام بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی ایلچی جیرڈ کشنر آج پیر کے روز اسرائیل میں وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے تاکہ غزہ کے لیے امریکی منصوبے کے اگلے مرحلے پر بات چیت کی جا سکے۔

العربیہ اور الحدث کے نمائندے کے مطابق کشنر اور نیتن یاہو کے درمیان ملاقات میں رفح میں حماس کے محصور جنگجووں کے بحران اور غزہ کے معاہدے پر آگے بڑھنے کے طریقہ کار پر بات ہونے کی توقع ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی عدالت نے وزیرِ اعظم کی درخواست پر ان کے مقدمے کی سماعت مؤخر کرنے کی منظوری دی، کیونکہ آج ان کی کشنر سے ملاقات متوقع تھی۔

معاہدے کے آغاز کے بعد حماس نے 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو زندہ واپس کیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ 28 میں سے باقی لاشیں وصول کرنے کا انتظار کر رہا ہے تا کہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے مذاکرات شروع کیے جا سکیں۔

فلسطینی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے کہا کہ پچھلے مرحلے میں لاشیں نکالنے کا عمل انتہائی پیچیدہ حالات میں انجام پایا .. اور باقی لاشوں کے نکالنے کے لیے مزید ماہر عملہ اور تکنیکی آلات درکار ہیں۔

حماس نے اتوار کو بیان میں کہا کہ اس کی لغت میں "دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے یا خود کو حوالے کرنے" کا اصول موجود نہیں۔ تنظیم نے ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمے داریاں ادا کریں اور فائر بندی کو برقرار رکھنے کا حل تلاش کریں۔

حماس نے مزید کہا کہ اسرائیل اب تک رفح کی سرنگوں میں محصور افراد کو نکلنے کی اجازت نہیں دے رہا۔ حماس نے مصر کے ساتھ غزہ کی انتظامیہ کے لیے کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا تھا، لیکن اسرائیل نے اس کی تشکیل میں رکاوٹ ڈالی۔

معاہدے کے مطابق غزہ کی انتظامیہ کے لیے 8 رکنی کمیٹی بننا تھی جس میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔ اس کی سربراہی فلسطینی سول آرگنائزیشنز کے نیٹ ورک کے ڈائریکٹر امجد الشوا کو ملنا تھی۔

حماس نے ثالثوں پر زور دیا کہ اسرائیل غزہ کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد شروع کرے۔

اگلے مرحلے میں توقع ہے کہ کثیر القومی فورس تشکیل پائے گی، جو بتدریج اسرائیلی فوج کی جگہ غزہ میں سیکورٹی کے فرائض سنبھالے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں