ایران کی جانب سے نے بارہا واضح کیا جا چکا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام پر مذاکرات کا امکان نہیں، تاہم نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کا کہنا ہے کہ ایران ایک پُر امن جوہری معاہدے کے حصول کا خواہاں ہے۔
خطیب زادہ نے منگل کے روز ابوظبی اسٹریٹجک فورم کے 12 ویں ایڈیشن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا "ہم جوہری ہتھیار نہیں چاہتے اور دنیا کو یقین دہانی کرانے کے لیے تیار ہیں"۔ انھوں نے اپنے مقامی طور پر تیار کردہ جوہری پروگرام پر فخر کا اظہار کیا اور کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتا نہیں ہو گا۔
نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ تہران کو واشنگٹن کی جانب سے تیسرے فریق کے ذریعے متضاد پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ قبل ازیں وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں، تاہم اگر کبھی دونوں جانب کے مفاد کا معاہدہ ممکن ہوا تو ایران اسے زیر غور لا سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران نے پابندیاں ختم کرنے کی درخواست کی ہے اور وہ اس موضوع پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی، خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ اور یورپی ممالک کی جانب سے "ٹِرِگر میکانزم" کے تحت پابندیاں دوبارہ فعال کرنے کے بعد۔
ایرانی حکام نے کہا کہ امریکہ نے گزشتہ مذاکرات میں غیر معقول مطالبات پیش کیے۔ یاد رہے کہ ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان پانچ بالواسطہ مذاکراتی دور ہو چکے ہیں۔ بعد ازاں چھٹے دور کے لیے ایران کی تیاریاں جاری تھیں جب جون میں اسرائیل نے ایران پر فضائی حملہ کر دیا اور پھر امریکہ بھی حملے میں شامل ہو گیا۔ بعد ازاں ٹرمپ نے 12 روزہ جنگ ختم ہونے کا اعلان کیا۔