جنوبی لبنان میں فائر بندی معاہدے کو تسلیم کرتے ہیں مگر ہتھیار نہیں پھینکیں گے:حزب اللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لبنان میں حزب اللہ کے نائب سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ تنظیم اپنے اسلحے سے دستبردار نہیں ہوگی۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ فائر بندی کے معاہدے میں ان کے لیے قابلِ قبول قیمت یہ تھی کہ لبنانی فوج کو تعینات کیا گیا اور ریاست نے 42 برس بعد اپنی ذمہ داری سنبھالنے پر آمادگی ظاہر کی۔

نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ صرف دریائے لیتانی کے جنوبی علاقے تک فائر بندی کے معاہدے کو تسلیم کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو لبنان سے نکلنا ہوگا اور قیدیوں کو رہا کرنا ہوگا، اس کے بدلے میں شمالی اسرائیلی بستیوں کو کسی خطرے سے محفوظ رکھنے کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ فائر بندی کے موجودہ معاہدے کی کوئی جگہ بدلنے یا نیا معاہدہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، البتہ پرانے معاہدے کی تمام شقیں نافذ ہونے کے بعد لبنان کی طاقت اور خودمختاری پر داخلی سطح پر بات چیت ہوسکتی ہے، جس میں کسی بیرونی فریق کی مداخلت نہیں ہوگی۔

نعیم قاسم نے کہا کہ"اپنے وجود کے دفاع کے لیے جو کچھ ضروری ہوا، وہ ہم ضرور کریں گے"۔

اسلحہ صرف ریاست کے پاس ہونا چاہیے:حکومت

دوسری جانب لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کا مقصد لبنانی ریاست کی دوبارہ تعمیر ہے۔

انہوں نےزور دیا تھا کہ ملک میں اسلحے کی مکمل ذمہ داری صرف ریاست کے پاس ہونی چاہیے۔

نواف سلام نے “لبنان ٹیکنالوجی اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس سمٹ” میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عرب اور بین الاقوامی سطح پر اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور حملوں کے خاتمے کے لیے حمایت موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "لبنانی ریاست نے جنگ و امن کے فیصلے کا مکمل اختیار دوبارہ حاصل کر لیا ہے"، جو حزب اللہ کے اس بیان کے جواب میں تھا جس میں تنظیم نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی مخالفت کی تھی۔

گذشتہ جمعرات کو حزب اللہ نے صدر جوزف عون، وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کو ایک کھلا خط بھیجا تھا، جس میں اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ "لبنان کا موجودہ مرحلے میں اسرائیل سے بات چیت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ ہمارا مقصد جارحیت کا خاتمہ ہے"۔

یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر عون نے کئی مواقع پر اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے مذاکرات کی دعوتوں کا جواب جنوبی لبنان پر حملے تیز کر کے دیا۔

خیال رہے کہ امریکی ایلچی ٹام بریک نے گذشتہ ہفتے منامہ میں لبنان پر زور دیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں