دوسری عالمی جنگ کے دوران انتقامی کارروائیوں میں اس ملک کی آبادی کا چوتھائی حصہ مارا گیا

پہلی عالمی جنگ میں تقریباً دس لاکھ سرب مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

آسٹریا کے ولی عہد فرینز فرڈینینڈ کو بوسنیا کے دارالحکومت سَرایوو میں غافریلو پرنسِپ (Gavrilo Princip) کے ہاتھوں 28 جون 1914 کو قتل کی خبر نے یورپی براعظم کو ہلا کر رکھ دیا۔ مقتول ولی عہد بوسنیا ینگ موومنٹ نامی تنظیم سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا شمار بوسنیائی سرب قوم پرستوں میں شمار ہوتا تھا۔

اس واقعے کے بعد آسٹریا-ہنگری کی سلطنت نے اپنے ہمسایہ ملک سربیا سے مطالبہ کیا کہ وہ تحقیقات میں تعاون کرے اور قتل کے ذمہ داروں کو حوالے کرے۔ تاہم تحقیقات میں رکاوٹوں اور سربیا کی جانب سے آسٹریا کے کچھ مطالبات ماننے سے انکار کے بعد 28 جولائی 1914 کو دنیا نے پہلی عالمی جنگ کے آغاز کا منظر دیکھا، جب آسٹریا-ہنگری کی سلطنت نے سربیا کے خلاف جنگ کا اعلان کیا اور یورپ میں اتحادوں کی پالیسی کے تحت باقی ممالک بھی اس تنازع میں کھنچتے چلے گئے۔

سربوں کے ہاتھوں آسٹریا کے باشندوں کی شکست

جنگ کے آغاز میں آسٹریا کو یقین تھا کہ وہ سربیا کی فوج کو باآسانی کچل دے گا اور قلیل عرصے میں سربیا پر قبضہ کر لے گا۔ لیکن آسٹریائی کے یہ خواب جلد ہی چکنا چور ہو گئے۔ اگست سے دسمبر 1914 کے درمیان آسٹریا کی فوج کئی بار سربیا پر قبضہ کرنے میں ناکام رہیں اور بالآخر پسپا ہونے پر مجبور ہوئیں۔

آسٹریا کے فوجی ایک سربیائی خاتون کو پھانسی دینے کے دوران

پہلی کوشش میں 16 سے 20 اگست 1914 کے دوران ہونے والی سیر (Cer) کی لڑائی میں آسٹریائی فوج کو شکست ہوئی۔ اس جنگ میں آسٹریا کے تقریباً 25 ہزار فوجی مارے گئے، زخمی ہوئے یا قیدی بنے، جس کے بعد انہیں بوسنیا کی سمت پیچھے ہٹنا پڑا۔ اس طرح سربیا نے اپنی آزادی برقرار رکھی۔

دوسری کوشش میں 7 سے 24 ستمبر 1914 کے دوران درینا (Drina) کی لڑائی لڑی گئی، جس میں دونوں جانب بھاری نقصان ہوا۔ آسٹریا کے تقریباً 40 ہزار اور سربیا کے 30 ہزار فوجی ہلاک ہوئے۔ اس بار بھی آسٹریائی افواج کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ دوبارہ بوسنیا کی طرف پسپا ہوگئیں۔

تیسری کوشش میں نومبر کے وسط سے دسمبر 1914 تک جاری رہنے والی کولوبارا (Kolubara) کی لڑائی میں آسٹریائی فوج کو بدترین شکست ہوئی۔

اس جنگ میں آسٹریا کے 2 لاکھ 70 ہزار سے زیادہ فوجی مارے گئے، زخمی ہوئے یا گرفتار کر لیے گئے۔ اس ہزیمت کے بعد آسٹریائی فوج کا حوصلہ بری طرح ٹوٹ گیا، جس کے باعث اس کے دو اتحادی جرمنی اور بلغاریہ کو فوری طور پر مدد کے لیے مداخلت کرنا پڑی۔

1915 کے موسمِ خزاں تک سربیا وسطی طاقتوں (آسٹریا، جرمنی اور بلغاریہ) کے قبضے میں آ گئی۔ اس کے بعد آسٹریائی افواج نے سرب باشندوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع کر دیں۔

آسٹریائی فوجیوں کی ایک تصویر جس میں وہ ایک سرب خاتون کو پھانسی دیتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔

فرانز فرڈینینڈ کے قتل کے بعد گیوریلو پرنسپ کی گرفتاری کی تصویر
فرانز فرڈینینڈ کے قتل کے بعد گیوریلو پرنسپ کی گرفتاری کی تصویر

ملک کی چوتھائی آبادی فنا کے گھاٹ اتار دی گئی

سربیا کی فوج کے انخلا اور زیادہ تر دستوں کے ملک چھوڑنے کے بعد آسٹریا نے سربیا کے شمالی اور مشرقی حصوں پر قبضہ کر لیا۔ ان علاقوں میں آسٹریائی فوج نے راہبوں، دانشوروں، اساتذہ اور سرکاری افسران کی ایک بڑی تعداد کو روسیوں یا مزاحمتی تحریک کے ساتھ تعاون کے الزام میں اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتارنا شروع کیا۔

تخمینوں کے مطابق آسٹریا کے قبضے کے ابتدائی دو برسوں کے دوران تقریباً 40 ہزار افراد کو مختلف ظالمانہ طریقوں سے فائرنگ، پھانسی اور سولی پر چڑھا کر علانیہ طور پر قتل کیا گیا۔

دوسری جانب آسٹریا نے سربیا کی قومی شناخت مٹانے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے اس نے سربیائی ثقافت کے کئی نمایاں پہلو ختم کرنے کی کوشش کی، جیسے زبان میں تبدیلی اور سرکاری و تعلیمی اداروں میں آسٹریا کے بادشاہ فرانز جوزف کی تصاویر آویزاں کرنا۔

اسی کے ساتھ آسٹریائی حکام نے ہنگری کے مختلف علاقوں میں حراستی اور جبری مشقت کے کیمپ قائم کیے اور لاکھوں سرب باشندوں کو وہاں جلاوطن کر دیا۔ ان کیمپوں میں خوراک کی کمی، بیماریوں اور سخت حالاتِ کار کے باعث اموات کی شرح بہت زیادہ تھی۔

علاوہ ازیں آسٹریائی افواج نے سربیا کی زرعی پیداوار اور مویشیوں کو ضبط کر لیا، جس کے نتیجے میں ملک میں شدید قحط پھیل گیا اور اموات کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا۔ یوں سربیا پہلی عالمی جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہو گیا۔

جنگ کے آغاز سے پہلے سربیا کی آبادی تقریباً 45 لاکھ تھی، لیکن جنگ کے دوران تقریباً 10 لاکھ سرب فوجی اور عام شہری دونوں ہلاک ہو گئے، جو ملک کی کل آبادی کا تقریباً چوتھائی حصہ بنتا ہے۔ان المناک واقعات نے جنگ کے بعد کے برسوں میں یوگوسلاویہ میں آسٹریائیوں اور بلغاریوں کے خلاف شدید نفرت کو جنم دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں