اٹلی کی 'جنگی سیاحوں' پر تحقیقات:کیا سرائیوو محاصرے میں شہریوں کو گولی مارنے کامعاووضہ تھا
مقامی میڈیا کی خبر کے مطابق اٹلی میں استغاثہ ان ممکنہ اطالوی سنائپرز سے متعلق تحقیقات کر رہے ہیں جنہوں نے 1990 کے عشرے میں بوسنیائی سرب فوج کو کھیلوں کے مقصد سے شہریوں کو گولی مارنے کی اجازت لینے کے لیے ادائیگی کی تھی۔ یہ واقعہ سرائیوو کے محاصرے کے دوران پیش آیا تھا۔
روزنامہ لا ریپبلیکا کے مطابق رضاکارانہ قتلِ عام کے لیے میلان کے پراسیکیوٹر الیسانڈرو گوبس کی شروع کردہ تحقیقات ان اطالویوں کی شناخت کے لیے ہیں جنہوں نے 1993 اور 1995 کے درمیان "تفریح کے لیے جنگی کھیل کھیلنے اور نہتے شہریوں کو مارنے کے لیے ممکنہ ادائیگی کی ہو گی۔"
اخبار نے کہا کہ جن نامعلوم مشتبہ افراد کو اس نے "جنگی سیاح" کا نام دیا، وہ زیادہ تر دولت مند اور بندوق سے پیار کرنے والے دائیں بازو کے ہمدرد تھے۔ وہ شمالی اٹلی کے علاقے ٹریسٹ سے روانہ ہوئے تھے، پھر انہیں سرائیوو کے گرد و نواح کی پہاڑیوں پر لے جایا گیا۔
روزنامہ ال جیورنالے کے مطابق وہاں نشانہ بازوں نے بوسنیائی سرب افواج کو روزانہ 100,000 یورو کے مساوی رقم ادا کی تاکہ وہ پہاڑیوں سے نیچے موجود شہریوں پر گولی چلا سکیں۔ مذکورہ روزنامہ نے جولائی میں سب سے پہلے اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز ہونے کی اطلاع دی تھی۔
یہ تفتیش ایک اطالوی صحافی اور مصنف ایزیو گاوانیزی کی دائر کردہ شکایت کے بعد شروع کی گئی ہے جن سے اگست 2025 میں سرائیوو کی سابق میئر بنجمینا کیرِک نے رابطہ کیا تھا۔
انہوں نے سلووینیائی ہدایتکار میران زوپانیک کی دستاویزی فلم "سرائیوو سفاری" کے نشر ہونے کے بعد 2022 میں بوسنیا میں خود اپنی طرف سے شکایت درج کروائی تھی۔ مذکورہ فلم میں جرائم کا انکشاف ہوا تھا۔
لا ریپبلیکا کے ساتھ ایک انٹرویو میں گاوانیزی نے اندازہ لگایا کہ کم از کم 100 اطالوی تھے جنہوں نے اس ناخوشگوار واقعے میں حصہ لیا جبکہ ال جیورنالے نے اس سے کم از کم دوگنا زیادہ تعداد کا ذکر کیا اور دوسرے ممالک کے غیر ملکی افراد اس کے علاوہ تھے۔
منگل کو سوشل میڈیا پر کیرِک نے اطالوی تحقیقات کا خیرمقدم کیا۔
اپنی 2022 کی شکایت میں کیرک نے کہا کہ دستاویزی فلم اور اس کے ہمراہ گواہوں کے بیانات "معقول شک" کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بوسنیائی سرب فوج کے ارکان نے "مالدار غیر ملکیوں کے لیے 'سیاحت' کا اہتمام کیا"۔ اس کی ایک کاپی انہوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی۔
ان کی شکایت کے مطابق "ان (نشانہ بازوں) کو سرائیوو شہر کے اوپر (فوجی) پوزیشنوں سے درست نشانہ لینے والی رائفلیں چلانے کا موقع ملا جس سے محصور شہر میں بچوں سمیت معصوم شہری ہلاک اور زخمی ہو گئے۔"
سرائیوو کے اپریل 1992 میں شروع ہونے والے تقریباً چار سالہ محاصرے کے دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بوسنیائی سرب افواج کے ہاتھوں تقریباً 11,541 مرد، عورتیں اور بچے ہلاک اور 50,000 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ یہ جدید جنگ کی تاریخ میں طویل ترین محاصرہ تھا۔