بلند فشارِ خون بچوں اور نوجوانوں میں خطرناک اثر ڈال رہا ہے:تحقیق میں انکشاف
بچوں اور جوانوں میں بلند فشارِ خون کے واقعات کی شرح دو دہائیوں میں دگنی ہو گئی ہے۔
ایک سائنسی مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ پچھلے بیس سالوں میں بچوں اور نوعمروں میں بلند فشارِ خون کی شرح دوگنی ہو گئی ہے۔
مطالعے کے مطابق جو The Lancet Child and Adolescent Health میں شائع ہوا، 2000 میں بچوں میں بلند فشارِ خون کی شرح صرف 3فیصد تھی، لیکن 2020 تک یہ شرح 6فیصد تک پہنچ گئی، جس کا اثر تقریباً 114 ملین افراد پر پڑا جن کی عمر 19 سال سے کم تھی۔
ایڈنبرا یونیورسٹی اسکاٹ لینڈ اور چجیانگ یونیورسٹی چین کی تحقیقاتی ٹیم کے مطابق چھوٹے بچوں میں بلند فشارِ خون کی سب سے بڑی وجہ موٹاپا ہے۔
موٹاپا والے بچوں میں 20فیصد کو بھی بلند فشارِ خون کا مسئلہ ہے، جو غیر موٹے بچوں کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ ہے۔
محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ 9فیصد بچوں میں بلند فشارِ خون کی پوشیدہ علامات موجود ہیں، یعنی جب ڈاکٹر کے پاس جا کر بلڈ پریشر ناپا جاتا ہے تو یہ نارمل لگتا ہے، لیکن دیگر اوقات میں یہ بڑھ جاتا ہے۔
اسی طرح 8فیصد نوجوانوں میں پری ہائپرٹینشن کی علامات دیکھی گئی ہیں، یعنی ان کا بلڈ پریشر معمول سے زیادہ ہے، جو آنے والے مراحل میں مکمل بیماری میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اس مطالعے میں 21 ممالک کے 443000 سے زیادہ بچوں پر مشتمل 96 تحقیقی مقالوں کے نتائج کا تجزیہ شامل تھا۔
مطالعے میں شامل ایک محقق نے کہا کہ یہ نتائج صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہیں۔
ڈیلی ہیلتھ ویب سائٹ کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ نگرانی کے نظام میں بہتری اور بیماری سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر اس رجحان کو بدلنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
-
دائمی گردے کی بیماریاں دنیا میں موت کی نویں سب سے بڑی وجہ بن گئیں
تحقیقی ٹیم کے مطابق دنیا کے ہر سات میں سے ایک بالغ کو دائمی گردوں کے مسائل لاحق ...
ایڈیٹر کی پسند -
بالوں کی نشوونما کو فروغ دینے کے لیے سب سے بہترین پانچ چیزیں
کافیئن(Caffeine) اور روز میری آئل سے مالا مال مصنوعات بالوں کی صحت کو بہتر بنانے ...
ایڈیٹر کی پسند -
لوہے کا نقاب پہننے والا قیدی… ایسا معمہ جو 350 سال سے فرانس کو حیران کیے ہوئے ہے
اس کی شناخت آج تک سامنے نہ آ سکی، حالانکہ اس بارے میں کئی نظریات اور امکانات پیش ...
بين الاقوامى