ریاض اور واشنگٹن کے درمیان فوجی اور سکیورٹی شراکت داری کا مرحلہ ایک تزویراتی دفاعی معاہدے پر دستخط کے ذریعے یکجہتی کے فریم ورک سے تجاوز کر گیا ہے۔ اس تزویراتی شراکت داری، جسے خطے کے استحکام کا پتھر سمجھا جا رہا ہے، کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کو شمالی اوقیانوسی معاہدے (نیٹو) سے باہر ایک اہم حلیف کے طور پر رینکنگ دینے سے مزید فروغ ملا ہے۔
عسکری اور سیاسی مبصرین نے کہا ہے کہ سعودی امریکی شراکت داری باہمی اعتماد اور مفادات پر مبنی ایک طویل سفر کے بعد اب ایک سنہری دور میں داخل ہو رہی ہے۔
سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تزویراتی دفاعی معاہدہ ایک کلیدی قدم ہے جو دفاعی شراکت داری کو فروغ دیتا ہے اور خطے میں امن، سلامتی اور خوشحالی کی حمایت کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ معاہدہ ایک تزویراتی (سٹریٹجک) شراکت داری اور تقریباً 9 دہائیوں پر محیط تاریخی تعلقات کے فریم ورک میں آتا ہے جن کے ذریعے دوطرفہ تعلقات "تزویراتی شراکت داری" کی سطح تک پہنچے اور معاہدے پر دستخط کے ذریعے لازمی سیکورٹی ضمانتوں کے مرحلے تک پہنچ گئے ہیں۔
یہ معاہدہ دونوں ملکوں میں فوجی تعاون اور یکجہتی کی صورتحال کو بلند کرتا ہے جس سے خطے کی سلامتی اور استحکام کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس کا اثر عسکری صنعتی تعاون کی صورتحال پر بھی پڑتا ہے جس سے امریکی معیشت میں ملازمت کے مواقع میں اضافہ ہوتا ہے، ساتھ ہی سعودی وزارت دفاع کے مطابق "تزویراتی دفاعی معاہدہ" سعودی عرب اور امریکہ کو مشترکہ خطرات اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مل کر کام کرنے والے دو نمایاں سکیورٹی حلیفوں کے طور پر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔
ان تمام باتوں کے ساتھ، ریاض تزویراتی دفاعی معاہدے کے ذریعے ایک پائیدار اور مسلسل دفاعی شراکت داری کے لیے ایک مضبوط فریم ورک قائم کر رہا ہے جو دونوں ملکوں کی سلامتی اور استحکام کو تقویت دیتا ہے۔ فوجی محقق فیصل الحمد نے بتایا کہ دفاعی معاہدہ دوطرفہ تعلقات میں ایک نیا موڑ ہے اور قریبی شراکت داری سے ایک منظم اور تحریری اتحاد اور طویل مدتی معاہدے کی طرف منتقلی کو مضبوط کرتا ہے جو اس اصول کو فریم کرتا ہے کہ سعودی سکیورٹی امریکی سکیورٹی کا حصہ ہے اور اسی طرح اس کے برعکس ہے۔
اسی فریم ورک میں تزویراتی دفاعی معاہدے ، جسے ایک فیصلہ کن وقت میں حاصل کرنے کے طور پر بیان کیا گیا ہے، کو اس طرح پڑھا جاتا ہے کہ یہ علاقائی استحکام کو فروغ دیتا ہے، دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے باہمی عزم کو مستحکم کرتا ہے، علاقائی استحکام کی حمایت کرتا ہے اور خطرات کے خلاف ایک زیادہ موثر روک تھام کا نظام بھی بناتا ہے۔ یہ معاہدہ بین الاقوامی مساوات میں ریاض کے بڑھتے ہوئے تزویراتی وزن کی بھی عکاسی کر رہا ہے۔
-
سعودی امریکی تاریخی شراکت داری مضبوط بنانے کی بنیاد رکھ دی: شہزادہ محمد بن سلمان
میں نے اور سعودی ولی عہد نے ریاض- واشنگٹن اتحاد کو ماضی سے زیادہ مضبوط بنادیا ہے: ...
بين الاقوامى -
امریکہ اور سعودی عرب کے بیچ جوہری مذاکرات مکمل ، مملکت میں ایٹمی ری ایکٹرز کی راہ ہموار
قانونی فریم ورک ایسی جوہری شراکت کی بنیاد رکھتا ہے جو کئی دہائیوں تک جاری رہے گی ...
بين الاقوامى -
ہم امریکہ یا صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے مصنوعی مواقع پیدا نہیں کرتے : سعودی ولی عہد
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہمارے معاہدے ہماری سرمایہ کاری کی حکمتِ ...
بين الاقوامى