گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران مراکش میں ایک افسوسناک واقعے نے عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا جب ایک خاتون نے سڑک پر رواں ٹرام گاڑی میں بچے کو جنم دیا اور نوزائدہ چند منٹ بعد ہی دم توڑ گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق خاتون فوری طبی امداد کے لیے مولای عبد اللہ ہسپتال سلا پہنچی تاہم ہسپتال نے اسے یہ کہہ کر داخل کرنے سے انکار کر دیا کہ اس کا نام ولادت کے شعبے کی منظور شدہ فہرست میں شامل نہیں۔ انتظامی پابندیوں کے باعث خاتون کو سخت حالت کے باوجود واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق خاتون جب ٹرام کے ذریعے کسی دوسرے ہسپتال کی طرف جا رہی تھی تو اسے اچانک شدید دردِ زہ لاحق ہوا اور اس نے ٹرام ہی میں انتہائی مشکل حالات میں بچے کو جنم دیا۔ نوزائد چند ہی منٹ بعد دنیا سے رخصت ہو گیا جس پر ٹرام کے مسافر صدمے میں ڈوب گئے اور شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
سوشل میڈیا پر غم و غصہ
اس واقعے نے سوشل میڈیا پر غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ سماجی کارکنوں اور ناقدین نے اسے "واضح طبی غفلت" قرار دیتے ہوئے فوری تحقیق اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خاتون کی حالت ہنگامی تھی جو کسی تاخیر یا انکار کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔
متعدد صارفین نے کہا کہ یہ واقعہ صحت کے نظام میں سنگین خامیوں کا ثبوت ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ "ایک خاتون جو زچگی کے مرحلے میں ہو اسے سرکاری ہسپتال کے دروازے سے واپس کرنا محض غلطی نہیں یہ شہری کی تذلیل ہے"۔
دوسروں نے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں میں رش ہونے کے باوجود کسی ہنگامی صورتحال کو نظر انداز کرنا ناقابلِ معافی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ "آج ایک نوزائدہ ٹرام میں مر گیا، کل کسی اور کی جان ضائع ہوسکتی ہے"۔
تحقیقات کا آغاز
دوسری جانب وزارتِ صحت اور سماجی تحفظ نے نومولود کی ٹرام میں وفات کے واقعے پر فوری تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ خاتون کو ہسپتال میں داخل کیوں نہ کیا گیا جبکہ اس کی حالت نہایت نازک تھی۔