ٹونی بلیئر اور امریکی حکام کی رام اللہ میں فلسطینی عہدیدار سے مشاورت
جنگ بندی کے بعد ساتویں ہفتے کے دوران برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور امریکی عہدیدار رام اللہ پہنچے ہیں تاکہ صدر ٹرمپ کے بعد از جنگ منصوبے پر عملدرآمد کے سلسلے میں تیاری کو تیز کر سکیں۔ نیز غزہ کے ممکنہ انتظامی ڈھانچے سے متعلق فلسطینی اتھارٹی کے حکام کو اعتماد میں لے سکیں۔
اس سلسلے میں ٹونی بلیئر اور امریکی حکام نے رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے نائب صدر سے ملاقات کی۔ اس دوران مقبوضہ مغربی کنارے سے متعلق امور بطور خاص زیر بحث آئے۔ نیز فلسطینیوں کے حق خود اختیاری اور فلسطینی ریاست کے قیام کے امور پر بات چیت کی گئی۔
فلسطینی خبر رساں ادارے 'وفا' کے مطابق یہ اجلاس سلامتی کونسل میں امریکی صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے حوالے سے منظور کردہ قرارداد کے بعد کیا گیا ہے۔ تاکہ قرارداد کے مطابق چیزوں کو آگے بڑھانے میں بات چیت کی جا سکے۔
سلامتی کونسل کی اس قرارداد میں صدر ٹرمپ کی مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس کی بھی تائید کی گئی ہے۔ نیز اس قرارداد میں امن منصوبے کے مطابق تعمیر نو اور غزہ کے انتظامی ڈھانچے کے امور کا بھی ذکر ہے۔
فلسطینی نائب صدر نے صدر ٹرمپ کی غزہ میں امن کے لیے کوششوں کو سراہا جو انہوں نے سعودی عرب، قطر، مصر، ترکیہ، اردن، متحدہ عرب امارات ، انڈونیشیا اور پاکستان کو ساتھ ملا کر کی ہیں اور یورپی یونین نے بھی غزہ میں جنگ بندی اور انسانی بنیادوں پر خوراک و دیگر امداد کی ترسیل کے لیے جو کردار ادا کیا ہے اس کی تعریف کی ہے۔
خبر رساں ادارے نے مزید کہا اس اجلاس میں فلسطینی انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل ماجد فاراج اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر کے سفارتی مشیر ماجدی الخالدی کے علاوہ صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو روزینہ نے بھی شرکت کی۔
یاد رہے برطانیہ کے سابق وزیر اعظم مشرق وسطیٰ کے معاملات سے اپنی وزارت عظمیٰ کے دنوں سے خوب جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بعد ازاں بھی مشرق وسطیٰ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب وہ خصوصی نمائندے کے طور پر بھی 2007 سے 2015 کے دوران کام کر چکے ہیں۔ اب توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جنگ کے بعد کے غزہ میں انتظامی اعتبار سے اہم کردار ادا کریں گے۔ تاکہ غزہ میں تعمیر نو کے لیے آنے والے فنڈز اور ترقیاتی امور کی نگرانی کی جا سکے۔