پیچیدگیوں کے باوجود دوسرے مرحلے میں جانے کے لیے سنجیدہ ہیں : حماس

غزہ اور خان یونس میں اسرائیلی حملوں میں چار فلسطینی جاں بحق اور متعدد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی تنظیم حماس تصدیق کی ہے کہ اس کے وفد کا قاہرہ میں موجود ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ثالثوں کے ساتھ تعاون کرنے اور جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے میں جانے کے لیے سنجیدہ ہے۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی صفا کے مطابق آج پیر کے روز حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ "دوسرے مرحلے کے معاملات پیچیدہ ہیں، تاہم ہم نے اپنی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں جبکہ اسرائیل اپنی خلاف ورزیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے"۔

قاسم نے کہا کہ "اسرائیل کی خلاف ورزیوں کا تسلسل جنگ بندی کے معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے اور یہ بات ہم نے ثالثوں کو قاہرہ میں مذاکرات کے دوران واضح کی ہے"۔ انہوں نے زور دیا کہ "بین الاقوامی فورسز کے کردار میں ہمارے معصوم عوام اور قابض فوج کے درمیان تفریق شامل ہونی چاہیے، جو مسلسل جارحیت کر رہی ہے"۔

حماس کے ترجمان نے مزید کہا کہ "قابض حکام روزانہ غزہ کی پٹی میں یلو لائن کو آگے بڑھا رہے ہیں، ہم نے ثالثوں کو واضح کیا کہ اس کو قبول نہیں کریں گے اور اسرائیل کو نئی صورت حال مسلط کرنے کی اجازت نہیں دیں گے"۔

دوسری جانب آج صبح اسرائیلی حملوں میں غزہ اور خان یونس میں چار فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ دفاعی اہل کار محمود بصل نے "اے ایف پی" کو بتایا کہ "صبح تین افراد ہسپتال منتقل کیے گئے، جن میں سے دو بنی سہیلہ (خان یونس کے مشرق) میں اسرائیلی ڈرون فائرنگ سے ہلاک ہوئے جبکہ ایک شخص التفاح (غزہ کے مشرق) میں ٹینک کے گولے سے مارا گیا"۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس تنظیم کے غیر معمولی حملے کے بعد غزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کر دی تھی۔ اس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 69,756 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار غزہ میں وزارت صحت کی طرف سے فراہم کیے گئے ہیں اور اقوام متحدہ نے انہیں معتبر قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں