طباطبائی کے قتل پر حزب اللہ کے ردعمل کے کئی امکانات ہیں: اسرائیل کا سرحدوں پر الرٹ جاری

اسرائیلی فوج نے لبنان میں کشیدگی کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا انتباہ دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

اسرائیلی آرمی کے ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ فوج حزب اللہ کے خلاف ’’ کمزور کرنے کی باری ‘‘ کے نام سے جانے والے حملے کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے اور حزب اللہ کی طاقت میں اضافے اور اس کی دوبارہ بحالی کے خلاف حملوں کو تیز کر رہی ہے۔ ریڈیو نے اعلان کیا کہ صہیونی فوج نے شمال میں فضائی دفاعی نظام کو مضبوط کرنے اور تیاری کی سطح کو نمایاں طور پر بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی آرمی ریڈیو نے وضاحت کی کہ صورتحال کے جائزے کے بعد ماہرین نے حزب اللہ کے ردعمل کے کئی امکانات کا اندازہ لگایا ہے جن میں اندرون ملک یا اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کی طرف راکٹوں کی بوچھاڑ کرنا، اسرائیل میں دراندازی کی کوشش کرنا یا یمنی حوثیوں کو اسرائیل کے خلاف کارروائی کے لیے متحرک کرنا شامل ہے۔ خاص طور پر رد عمل کا امکان اس لیے بھی ہے کہ قتل کیے گئے ہیثم طباطبائی کے حوثیوں سے قریبی تعلقات تھے۔

اسی تناظر میں ایک اسرائیلی سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ چند دن کی لڑائی سے حزب اللہ کو کئی سالوں تک نمایاں طور پر کمزور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ لبنانی حکومت حزب اللہ کو کمزور کرنے کا کام نہیں کرے گی اور ہم انتظار نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل سال کے اختتام سے پہلے حزب اللہ کو کمزور نہیں کرتا ہے تو یہ تل ابیب کو غیر متوقع وقت پر حیران کر دے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ حزب اللہ کو کمزور کرنے کی باری سال کے اختتام سے پہلے مکمل ہو جانی چاہیے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کے ترجمان نے کہا کہ تہران کے پاس خطے میں اپنے بازوؤں یا ملیشیاؤں کو مسلح کرنے کے لیے کافی پیسہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ ایران سے بھاری مالی رقوم کے ساتھ خود کو دوبارہ مسلح کر رہا ہے۔ انہوں نے لبنانی حکومت کے ساتھ ہتھیار ڈالنے کے بارے میں مذاکرات کے حوالے سے حزب اللہ پر سنجیدہ نہ ہونے کا بھی الزام لگایا۔ یاد رہے اتوار کو اسرائیل نے فضائی حملے میں حزب اللہ کے فوجی کمانڈر ہیثم طباطبائی کو قتل کر دیا تھا۔ اس حملے میں لبنانی حکام کے مطابق پانچ افراد مارے گئے۔ یہ حملہ ایک سال قبل جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد سے بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ بنانے والا پانچواں حملہ ہے۔

ھیثم طباطبائی ایک سال تک جاری رہنے والی اسرائیلی اور حزب اللہ کے درمیان خونریز تصادم کے خاتمے کے بعد سے مارے جانے والے حزب اللہ کے اعلیٰ ترین عہدیدار ہیں۔ اس تصادم کے بعد حزب اللہ کو شدید نقصان پہنچا تھا جب اسرائیل نے اس کے اسلحہ خانے کا بڑا حصہ تباہ کر دیا تھا اور اس کے کئی رہنماؤں کو مار ڈالا تھا۔ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ فضائیہ نے بیروت کے علاقے میں ایک حملہ کیا جس کے نتیجے میں حزب اللہ کے چیف آف سٹاف ہیثم علی طباطبائی کو قتل کر دیا گیا۔

حزب اللہ نے شام کو ایک بیان میں ان کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ اس کے علاوہ حزب اللہ نے چار دیگر عناصر کی تعزیت بھی کی جو طباطبائی کے ساتھ اسی حملے میں مارے گئے تھے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک "درست اور کامیاب" آپریشن کے بارے میں بات کی تھی ۔ انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ میری پالیسی بالکل واضح ہے، میری قیادت میں ریاست اسرائیل حزب اللہ کو اپنی طاقت دوبارہ بنانے کی اجازت نہیں دے گی اور ہم اسے دوبارہ ریاست اسرائیل کے لیے خطرہ بننے نہیں دیں گے۔ انہوں نے اپنی اس بات کو دہرایا کہ وہ لبنانی حکومت سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے اپنے عزم کو پورا کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ بیروت میں لبنانی صدر جوزف عون نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ 27 نومبر 2024 کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے جاری اسرائیلی حملوں کو روکے۔

واضح رہے یہ حملہ پوپ لیو چہار دہم کے 30 نومبر سے لبنان کے دورے سے چند دن قبل ہوا ہے۔ یہ 5 جون کے بعد بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ بنانے والا پہلا حملہ ہے۔ لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے میں عمارت پر تین میزائل داغے گئے۔ اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود لبنان کے مختلف علاقوں پر اپنی بمباری اور حملے نہیں روکے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے، اسلحہ کے گوداموں اور اسرائیل پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والے رہنماؤں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

لبنانی حکام اسرائیلی خلاف ورزیوں کی مسلسل مذمت کرتے رہتے ہیں۔ ان خلاف ورزیوں میں اسرائیل کا جنوبی لبنان میں پانچ سٹریٹجک مقامات پر قبضہ برقرار رکھنا بھی شامل ہے۔ یاد رہے جنگ بندی معاہدے میں کہا گیا تھا کہ وہ جنگ کے دوران آگے بڑھنے والے مقامات سے دستبردار ہو جائے گا۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ کی پٹی میں جنگ چھڑنے کی تاریخ 7 اکتوبر 2023 کو حزب اللہ نے جنوبی لبنان سے ایک معاون محاذ کھولا اور یہ محاذ جلد ہی ایک خونریز جنگ میں بدل گیا تھا۔

حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا

ہیثم علی طباطبائی نے گزشتہ جنگ میں حزب اللہ کے اہم ترین ستونوں کی ہلاکت کے بعد فوجی قیادت سنبھالی تھی۔ ہیثم طباطبائی، جو اس ماہ 57 سال کے ہو چکے تھے، عام لبنانیوں میں کوئی معروف شخصیت نہیں تھے۔ واشنگٹن کے مطابق طباطبائی نے شام میں بھی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں جہاں انہوں نے معزول صدر بشار الاسد کی افواج کی فوجی مدد کی تھی۔ 2024 کے آخر میں مسلح دھڑوں کے اتحاد نے انہیں بے دخل کر دیا تھا۔

حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ طباطبائی، جنہیں امریکہ نے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا اور ان کی گرفتاری پر انعام رکھا تھا، یمن کے معاملات کے بھی انچارج تھے۔ حزب اللہ حوثی باغیوں کی بھی حامی ہے۔ امریکہ کی ثالثی میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے میں فوجی کارروائیاں روکنے، حزب اللہ کے لیطانی دریا کے جنوب سے انخلاء اور اس کے فوجی ڈھانچے اور ہتھیاروں کو ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

لبنانی حکومت نے 5 اگست کو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا فیصلہ کیا اور لبنانی فوج نے ایسا کرنے کا ایک منصوبہ بھی تیار کیا۔ تاہم حزب اللہ نے اپنے ہتھیار ڈالنے سے مسلسل انکار کیا ہے اور حکومتی فیصلے کو ایک گناہ کے مترادف قرار دیا ہے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 331 سے زائد افراد ہلاک اور 945 دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں