آتش فشانی راکھ دل اور پھیپھڑوں پر کاری ضرب لگا رہی ہے… ایتھوپیا کا آتش فشاں بھڑک اٹھا

ہیلی گوپی آتش فشاں بارہ ہزار سال سے زیادہ عرصے کی خاموشی کے بعد دوبارہ سرگرم ہو گیا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

ایتھوپیا میں آنے والے اُس آتش فشانی دھماکے کے بعد جسے "ہیلی گوپی" آتش فشاں کا نام دیا گیا ہے، بین الاقوامی ادارہ برائے آتش فشانی صحت کے خطرات نے اٹھتی ہوئی راکھ کے ممکنہ صحت پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

اسی سلسلے میں مصری ارضیات کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ یہ آتش فشاں بارہ ہزار سال کی طویل خاموشی کے باوجود اس وقت کیوں پھٹ پڑا۔

ڈاکٹروں نے بھی تصدیق کی ہے کہ آتش فشانی اثرات کے سامنے آنے سے نظامِ تنفس میں خلل، آنکھوں میں جلن، جلد میں سوزش، بینائی میں کمزوری اور ہوا یا حرکت کے باعث راکھ دوبارہ اڑنے سے نقصان کے امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

آتش فشاں کے پھٹنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر عماد کمال—قومی ادارہ برائے فلکیاتی و ارضیاتی تحقیق کے زلزلہ شناس نے العربیہ/الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "ہیلی گوپی" آتش فشاں نے بارہ ہزار سے زیادہ برس کی خاموشی کے بعد دوبارہ حرکت میں آیا ہے ،یہ آخری برفانی دور کے اختتام سے خاموش تھا، مگر اب اچانک پھٹ پڑا۔

آتش فشاں ہیلی گوپی
آتش فشاں ہیلی گوپی



افریقی اور عربی تختے، آتش فشاں پھٹنے کی اصل وجہ

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ پھٹنا کئی ارضیاتی عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ آتش فشاں افریقی صدعی وادی کے اندر واقع ہے، جو زمین کی حرکت کے اعتبار سے دنیا کے سب سے فعال علاقوں میں شمار ہوتی ہے، کیونکہ افریقی پلیٹ عربی پلیٹ سے مسلسل دور جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آتش فشاں کے پھٹنے سے پہلے 5اعشاریہ7 شدت کا زلزلہ اور سال 2025 کے دوران ایک سلسلہ وار جھٹکے ریکارڈ کیے گئے تھے، جو آتش فشاں سے صرف تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر آئے،یہ زیر زمین متحرک سرگرمی کا واضح ثبوت تھا۔یہ بھی بتایا گیاکہ ہزاروں سال سے میگما چیمبر میں جمع ہوتا ہوا دباؤ اور زمین کی حرکت میں اضافہ وہ چنگاری ثابت ہوا ،جس نے اس اچانک دھماکے کو جنم دیا۔

انہوں نے کہا کہ آتش فشانی راکھ نے پڑوسی گاؤں "افدیرا" کو ڈھانپ لیا ہے، جس سے مقامی آبادی پر ماحولیاتی اور معاشی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ راکھ کے ستون 10 سے 15 کلومیٹر کی بلندی تک اٹھے اور بحیرۂ احمر کے پار منتقل ہو گئے۔
اس دوران یمن سب سے زیادہ متاثر ہوا، خصوصاً الحُدیدہ، اب اور ذمار کی گورنریاں، جبکہ بادلوں کا کچھ حصہ عمان اور سعودی عرب کے مغربی علاقوں تک بھی پھیل گیا۔

تنفسی نظام میں نفوذ کا خطرہ

ڈاکٹر عماد کمال نے بتایا کہ سلفر ڈائی آکسائیڈ گیس اور راکھ کے بادلوں نے ایئرلائنز کو بعض پروازوں کے روٹس تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا، جبکہ کچھ طیاروں نے تکنیکی معائنوں کے لیے متبادل ہوائی اڈوں پر لینڈنگ کی۔

آتش فشاں کے ممکنہ صحت پر اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، سینے کے امراض کے ماہر ڈاکٹر مصطفیٰ ابو بکر نے ''العربیہ/الحدث ڈاٹ نیٹ '' کو بتایا کہ آتش فشانی راکھ کے نتائج سے نمٹنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کی پابندی ضروری ہے، خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں آتش فشانی بادل پہنچ چکے ہیں یا جہاں راکھ گری ہے۔



انہوں نے وضاحت کی کہ راکھ کے ذرات نہایت باریک ہوتے ہیں اور آسانی سے تنفسی نظام میں داخل ہو سکتے ہیں، اسی لیے اعلیٰ معیار کے میڈیکل ماسک پہننا شہریوں کو جلن یا سانس کی تکلیف سے بچانے کے لیے بنیادی حفاظتی اقدام ہے۔

انہوں نے یہ بھی توجہ دلائی کہ کھلی جگہوں یا ان علاقوں میں جانے سے اجتناب ضروری ہے جہاں راکھ جمع ہو چکی ہے، کیونکہ تیز ہوائیں براہِ راست آتش فشانی سرگرمی رک جانے کے بعد بھی راکھ کے ذرات کو دوبارہ ہوا میں اڑا سکتی ہیں۔مصری ڈاکٹر نے زور دیا کہ جہاں تک ممکن ہو گھروں کے اندر رہیں اور کھڑکیوں ،درزوں کو اچھی طرح بند رکھیں تاکہ آتش فشانی غبار اندر داخل نہ ہو سکے۔ ضرورت پڑنے پر نم کپڑا یا سادہ فلٹر استعمال کرکے کھلنے والی جگہوں کو بند کرنا بھی مفید ہے۔

آنکھ اور جلد پر اثرات

ڈاکٹر ابو بکر نے بتایا کہ جن افراد کو پھیپھڑوں کی دائمی بیماریاں لاحق ہیں، جیسے دمہ یا دائمی رکاوٹِ تنفس (COPD) اس کے علاوہ بزرگ اور بچے،یہ سب سے زیادہ پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے راکھ کے پھیلاؤ کے دوران ان کی صحت کی حالت پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اگر کسی شخص کو دم گھٹنے جیسی علامات، شدید کھانسی، یا سانس لینے میں دشواری محسوس ہو تو فوراً قریب ترین اسپتال سے رجوع کیا جائے، تاکہ آکسیجن کی فراہمی اور ایئر ویز کو کھولنے کے لیے ضروری سانس کی تھراپی دی جا سکے، تاکہ حالت بگڑنے نہ پائے۔

اپنی جانب سے ڈاکٹر حاتم عبد الحق—ماہر امراضِ باطنہ ایمرجنسی اور کریٹیکل کیئرنے ''العربیہ ڈاٹ نیٹ ''اور ''الحدث ڈاٹ نیٹ ''کو بتایا کہ آتش فشانی راکھ کے سامنے آنا ایسی صحت مسائل پیدا کر سکتا ہے جن کی شدت سانس کے ذریعے اندر جانے والے ذرات کی مقدار پر منحصر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اثرات صرف نظامِ تنفس تک محدود نہیں رہتے، بلکہ آنکھوں اور جلد تک بھی پھیل سکتے ہیں، اس کے علاوہ دل اور پھیپھڑوں کے مریضوں کے لیے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔

ماسک پہننے کی پابندی

ڈاکٹر عبد الحق نے وضاحت کی کہ آتش فشانی راکھ میں چٹانوں اور آتش فشانی شیشے کے نہایت باریک ذرات شامل ہوتے ہیں، جو پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ ذرات خاص طور پر دمہ، الرجی کے مریضوں، بزرگوں اور بچوں میں شدید سانس کی تکلیف یا سانس کی نالی کے انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں۔

انہوں نے تاکید کی کہ حفاظتی اقدامات میں سب سے پہلا قدم اعلیٰ معیار کے ماسک پہننا ہے، ساتھ ہی کھلی جگہوں سے دور رہنا اور کھڑکیوں کو اچھی طرح بند رکھنا ضروری ہے تاکہ ہوا میں معلق ذرات گھر کے اندر داخل نہ ہو سکیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ جن افراد کو آنکھوں میں جلن، مسلسل کھانسی یا گھبراہٹ/دم گھٹنے جیسی علامات محسوس ہوں، اُنہیں فوراً طبی مدد لینی چاہیے۔ بعض افراد کو آکسیجن تھیراپی یا سانس کی نالی کھولنے والے استنشاقی علاج کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ باہر سے گھر لوٹنے پر چہرہ اور ہاتھ اچھی طرح دھوئے جائیں اور آنکھوں کی سوزش کم کرنے کے لیے نمی بخش قطرے استعمال کیے جائیں۔

ڈاکٹر عبد الحق نے متاثرہ علاقوں میں طبّی تیاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہنگامی یونٹس کی فراہمی ضروری ہے، جو سانس کی تکالیف میں مبتلا متوقع اضافی مریضوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر لیس ہوں۔

انہوں نے یقین دلایا کہ صحت سے متعلق ہدایات پر عمل پیرا ہونا آتش فشانی راکھ کے اثرات سے پیدا ہونے والے خطرات کو نمایاں حد تک کم کر سکتا ہے۔

نایاب اور بے مثال ارضیاتی واقعہ

قابل ذکر ہے کہ ''ہیلی گوپی'' آتش فشاں، جو شمال مشرقی ایتھوپیا میں واقع ہے،انھوں نے ایک نایاب اور بے مثال ارضیاتی واقعہ ریکارڈ کیا ہے،یہ اس کا پہلا پھٹنا تقریباً 12 ہزار سال بعد تھا، جیسا کہ سمیٹھسونیان فاؤنڈیشن کے عالمی آتش فشانی پروگرام نے بتایا ہے۔

آتش فشاں عفر علاقے میں واقع ہے، دارالحکومت ادیس ابابا سے تقریباً 800 کلومیٹر کے فاصلے پر اور ایریٹیریا کی سرحد کے قریب، جو افریقہ کے سب سے زیادہ فعال علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔یہ مقام صدعی وادی کا حصہ بھی ہے، جہاں پلیٹوں کی تکتونی حرکت کی وجہ سے گہری ارضیاتی ہلچل دیکھی جاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ خطہ مسلسل شدید آتش فشانی اور زلزلہ جاتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے اور یہاں 15 کلومیٹر بلندی تک زہریلی گیسیں بھی پھیل سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں