"بحران کے حل کی کوششوں پر سوڈانی سلامتی و دفاع کونسل کا سعودی ولی عہد اور ٹرمپ کا شکریہ

کونسل نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ وہ ٹرمپ کے مشیر مسعد بولس کی جانب سے سوڈان میں جنگ روکنے کے بارے میں پیش کی گئی تجویز کا جواب دیں.

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سوڈان کی سلامتی و دفاع کونسل نے منگل کے روز سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انھوں نے سوڈانی بحران میں دل چسپی لی اور ملک کی وحدت اور سالمیت کے تحفظ کے واسطے امن کے لیے تعاون کا اظہار کیا۔

کونسل کا اجلاس مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کے زیرِ صدارت ہوا۔ بیان کے مطابق کونسل نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے مشیر برائے عرب و افریقی امور مسعد بولس کی جانب سے پیش کی گئی جنگ روکنے کی تجویز کا با ضابطہ جواب دیں۔

کونسل نے سابقہ مواقع پر اقوامِ متحدہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو پیش کی گئی سوڈانی حکومتی پالیسی پر قائم رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ کونسل نے یہ بھی یقین دلایا کہ حکومت انسانی امداد کی رسائی، راستوں کے کھولنے، امدادی کارکنوں کے تحفظ اور سرحدی گزرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے کھلے رکھنے کی پابند ہے۔

مسعد بولس نے اسی روز کہا تھا کہ صدر ٹرمپ نے سوڈان میں امن کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ ابوظبی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایک حل پیش کیا تھا مگر اسے سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز دونوں نے مسترد کر دیا۔

انہوں نے فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز دونوں پر سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ملک میں قحط اور بے دخلی کی سطح انتہائی خطرناک ہے۔ ان کے مطابق ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے یک طرفہ طور پر تین ماہ کی انسانی جنگ بندی کا اعلان مثبت قدم ہے اور امید ہے کہ دونوں فریق اس پر عمل کریں گے۔

دوسری جانب البرہان نے ایک بار پھر کسی بھی ایسی سیاسی ڈیل کو مسترد کر دیا جو ریپڈ سپورٹ فورسز کو برقرار رکھے یا انہیں عبوری حکمرانی میں دوبارہ شریک کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ فورسز شہری علاقوں سے نکلیں اور مسعد بولس کے بیانات پر سخت تنقید بھی کی۔

واضح رہے کہ امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر پر مشتمل بین الاقوامی طار فریقی گروپ نے 12 ستمبر کو ایک منصوبہ پیش کیا تھا۔ منصوبے میں تین ماہ کی انسانی فائر بندی، مستقل جنگ بندی، مختصر عبوری مرحلہ اور سویلین حکومت کا قیام شامل ہے۔ ساتھ ہی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جنگ کا کوئی عسکری حل نہیں اور ’’اسلامی حلقوں‘‘ کو بعد از جنگ سیاسی منظرنامے سے دور رکھا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں