کیا مصنوعی ذہانت قابو سے باہر ہو جائے گی؟… تباہ کن منظرناموں کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش!

مصنوعی ذہانت کے مختلف خطرات انسانیت کے ختم ہونے کا سبب بن سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

مصنوعی ذہانت کے انسانی زندگی پر ممکنہ خطرات کے حوالے سے انتباہات کی آوازیں بلند ہوتی جا رہی ہےاور اس ٹیکنالوجی کی خود آگاہی تک پہنچنے اور ایسے فیصلے کرنے کی صلاحیت پر تشویش بڑھ رہی ہے، جو انسانیت کے لیے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ کم پرامید افراد بھی وارننگ دیتے ہیں کہ پروگرامنگ کی غلطیاں مصنوعی ذہانت کو انسانی لالچ کے لیے وسائل کے نقصان پر مجبور کر سکتی ہیں۔"انقراض" کے ممکنہ منظرناموں، جنگ، معیشت اور معلوماتی سلامتی میں حقیقی خطرات کے درمیان العربیہ بزنس نے مائیکروسافٹ کے Copilot سے بات کی تاکہ یہ جانا جا سکے کہ کچھ مشہور شخصیات جو مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے انسانی زندگی پر اثرات کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں، ان کی تشویش کتنی درست ہے۔

جوابات کافی منطقی تھے اور ٹیکنالوجی نے واضح طور پر خود کو بری قرار دیا۔ ابتدائی طور پر اس نے اپنی ادراکی صلاحیت یا خودمختار فیصلوں کی موجودگی سے انکار کیا اور واضح کیا کہ اس کے کام کرنے کا طریقہ انسانوں کی لکھی ہوئی الگورتھمز پر منحصر ہے۔
اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے ارتقا یا موجودہ ورژن کی تاریخ کا شعور نہیں رکھتا، لیکن اپنی مرمت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


وجودی فنا اور ''تباہی ''کے امکانات

مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے حوالے سے سب سے بڑے انتباہات'' ''XAI کے شریک بانی ایلون مسک کی جانب سے سامنے آئے، جو انہوں نے مارچ میں جو روگان کے پوڈکاسٹ میں دیے۔

مسک نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے تباہی کا امکان 20 فیصد موجود ہے۔مسک نے پیش گوئی کی کہ چند سالوں میں ماڈلز انسانوں کے مجموعے سے زیادہ ذہین ہو جائیں گے اور 2029سے2030 تک انسانی جمع شدہ ذہانت سے بھی آگے بڑھ جانے کا امکان ہے۔

یہ بیانات ان کے گزشتہ تخمینوں سے مطابقت رکھتے ہیںکہ وجودی طور پر 10فیصد20فیصد امکان ہے کہ صورتِ حال بگڑ جائے۔ 2025سے2026 کے دوران صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔

اسی دوران'' OpenAI ''جیسے معروف لیبارٹریز کی گورننس پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے، کیونکہ کمپنی کو جون میں اپنی دوبارہ تنظیم کی منصوبہ بندی کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس میں اسے عوامی فلاحی ماڈل کی طرف منتقل کیا جانا تھا، جو ممکنہ طور پر منافع کی حد کو کم کر سکتا ہے اور غیر منافع بخش گورننس کی آزادی کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے حفاظت اور سرمایہ کاری کی دوڑ کے درمیان ترجیح کے سوالات پیدا ہو گئے۔

تشویش ناک بات یہ ہے کہ گورننس میں تبدیلیاں کمپنی کو جو اصل میں ایک "غیر منافع بخش" ادارہ تھی، مارکیٹ کے اصولوں سے چلنے والے ماڈل کی طرف دھکیل سکتی ہیں، جس میں رفتار کو نگرانی اور شفافیت پر فوقیت دی جائے۔


سائنسدانوں نے خطرے کی سرخ جھنڈی بلند کر دی

جیوفرِی ہنٹن جو ٹورنگ اور نوبل انعام یافتہ ہیں،ان کے مطابق اس بات کا امکان 10فیصد سے 20فیصد کے درمیان ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کو مٹا سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ذہین ایجنٹس میں خود کو محفوظ رکھنے کے ضمنی مقاصد ابھر سکتے ہیں اور وہ اپنے ارادوں کو چھپانے اور روکنے سے بچنے کی کوشش کر سکتے ہیں، یہ خدشات جون میں بھی انہوں نے دوبارہ واضح کیے تھے، جیسا کہ CNBCنے رپورٹ کیا۔

ہنٹن نے پیش گوئی کی کہ اگر یہ صلاحیتیں قابو سے باہر ہو جائیں تو اس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر بے روزگاری اور سماجی انتشار پیدا ہو سکتا ہے۔اپنی حالیہHinton Lectures میں انہوں نے کہا کہ سیاستدان اور ریگولیٹری ادارے اس وقت تک معیارات وضع نہیں کر رہے جب تک کہ کوئی بڑی آفت ہم سب کو ختم نہ کر دے۔

اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نئی ٹیکنالوجی کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کے قائل ہیں۔اسی طرح ٹیکنالوجی کے ماہر اور کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے محاضر جوشوا بنگیو کا کہنا ہے کہ انقراض کا امکان انہیں راتوں کو جاگنے پر مجبور رکھتا ہے، جیسا کہ Natureمیگزین میں اس ماہ شائع شدہ مضمون میں بیان کیا گیا۔

بنگیو نے تجویز دی کہ غیر ہدایت شدہ ماڈلز (جن کے کوئی مقاصد نہیں ہوتے) اپنائے جائیں تاکہ قابل اعتماد ہونے کی صلاحیت میں اضافہ ہو، یہ سفارش انہوں نے 2025 کے بین الاقوامی مصنوعی ذہانت حفاظتی رپورٹ کے حوالے سے دی، جس کی قیادت بھی انہوں نے کی تھی۔

قاتل روبوٹ اور خودکار جنگ

مئی 2025 میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے خودکار ہتھیاروں کو سیاسی طور پر ناقابل قبول اور اخلاقی طور پر گھناونےقرار دیا اور 2026 تک ایک لازمی پابندی کے معاہدے کی ضرورت پر زور دیا جو طاقت کے استعمال کے فیصلے میں حقیقی انسانی کنٹرول کو یقینی بنائے۔

ان انتباہات میں اقوام متحدہ کی رپورٹس اور ماہرین کی نشاندہی شامل تھی کہ ڈرون کے بیڑے اور خودکار ہدف کے انتخاب بین الاقوامی انسانی قانون کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور ایسی جوابدہی کے خلا پیدا کر سکتے ہیں، جنہیں تکنیکی یا قانونی طور پر ابھی تک پر نہیں کیا جا سکا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قلیل مدت میں خودکار جنگ کا خطرہ وسیع پیمانے پر نقصان کے لیے سب سے قریب ترین راستوں میں سے ایک ہے۔

اقتصادی اور معاشرتی اضطراب

مصنوعی ذہانت کے وجودی خطرات میں سے ایک جو ہنٹن نے اجاگر کیا ہے،وہ ملازمتوں کے تیزی سے ختم ہونے کا نتیجہ ہے جبکہ اس کے متبادل موجود نہیں اور دولت کے ارتکاز کی کوششیں، جس کے نتیجے میں صارفین کی مالی استطاعت ختم ہونے سے مصنوعات کی کھپت کا ماڈل متزلزل ہو جائے گا۔

ہنٹن نے خبردار کیا کہ نظام گہری خودکار معیشت میں منتقلی کے لیے تیار نہیں ہیں۔گزشتہ ماہ کچھ بڑی کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر چھانٹی کے منصوبے شروع کیے ہیں، جہاں ایمیزون نے تقریباً 14 ہزار ملازمتیں ختم کیں اور بارکلیزبینک بھی ہزاروں ملازمتوں کو ختم کر کے ان کی جگہ مصنوعی ذہانت کو متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ دنیا کے خاتمے کے مترادف نہیں ہو سکتا، لیکن مصنوعی ذہانت یقینی طور پر معاشرتی اور اقتصادی جھٹکوں کا سبب بنے گی جو گزشتہ تکنیکی انقلابوں سے بھی گہری ہو سکتی ہیں اور اس کے لیے منصفانہ منتقلی کی پالیسیاں اور مربوط معلوماتی حکمرانی درکار ہوگی۔

الیعازر یودکوفسکی اور نائٹس سوارس کی مشترکہ نئی کتاب ''اگر کسی نے اسے بنایا، تو سب مر جائیں گے: کیوں سپر انٹیلیجنس ہمیں سب کو مار دے گی؟'' اس میں مصنفین نے تکنیک کے غیر معمولی منظرناموں کے بارے میں خبردار کیا ہے، انسانی ترقی کے نمونوں پر مبنی، لیکن انہوں نے مکمل تصور پیش نہیں کیا کہ حالات کس طرف جا سکتے ہیں، خاص طور پر جب کہ "سپراِنٹیلیجنس" ابھی منظر عام پر نہیں آئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں