مفرور وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اور اس کے بیٹوں کو بدعنوانی کے نئے مقدمات میں سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بنگلادیش کی ایک عدالت نے جمعرات کو سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کوکرپشن کے تین مقدمات میں 21 سال قید کی سزا سنائی۔

ڈھاکہ کی عدالت کے چیف جسٹس عبد اللہ المأمون نے 78 سالہ شیخ حسینہ کو بنگلادیش کے سب سے بڑے شہر کے مضافات میں غیر قانونی طریقے سے زمین حاصل کرنے کا مرتکب قرار دیا، یہ فیصلہ غیر حاضری میں چلنے والی مقدمے کی کارروائی کے بعد سنایا گیا۔

جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ " سابق وزیر اعظم کا رویہ مسلسل کرپشن کی طرف مائل رہاہے، جسے سزا سے بچنے کے احساس، لامحدود اختیارات اور عوامی املاک پر واضح قبضے کی حرص کا پتا چلتا ہے"۔

اسی مقدمے میں ان کے بیٹے اور بیٹی کو جمعرات کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔

گذشتہ ہفتے ایک عدالت نے سابق وزیر اعظم کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے جرائم کے سلسلے میں سزائے موت کا حکم بھی جاری کیا تھا۔ شیخ حسینہ واجد پر الزام ہے کہ انہوں نے طلبہ کی بغاوت کے دوران مظاہرین پر فائرنگ کے احکامات دیے تھے، جس کے نتیجے میں انہیں اگست سنہ 2024 میں اقتدار چھوڑنا پڑا۔

حسینہ واجد ان دنوں بھارت میں خود ساختہ جلا وطنی کاٹ رہی ہیں۔ انہوں نے ان الزامات کی تردید کی اور اپنے خلاف دائر مقدمات کو "سیاسی مقاصد" س کا محرک قرار دیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق عوامی احتجاجات کے دوران کم از کم 1400 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے، اس کے بعد حسینہ کو 5 اگست سنہ 2024ء کو ملک چھوڑنا پڑا اور انہوں نے 15 سال اقتدار سنبھالنے کے بعد پڑوسی ملک بھارت میں پناہ لے لی۔

سزائے موت سنائے جانے کے بعد ڈھاکہ نے ان کی حوالگی کے لیے نیودہلی سے رابطہ کیا ہے تاہم نئی دہلی کا کہنا ہے کہ اسے بنگلہ دیش کی درخواست موصول ہوگئی ہے اور وہ اس پر غور کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں