افغانستان نے جمعہ کے روز ہمسایہ ملک تاجکستان میں سرحد پار سے ہونے والے ایک حملے کی شدید مذمت اور اس پر "گہرے افسوس" کا اظہار کیا جس میں تین چینی کارکنان ہلاک اور چوتھا زخمی ہو گیا۔
وزارتِ خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیاء احمد تکل نے کہا، ابتدائی تشخیص سے ظاہر ہوتا ہے کہ "اس واقعے میں ایسے عناصر شامل ہیں جو خطے کے ممالک کے درمیان افراتفری، عدم استحکام اور عدم اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں"۔ انہوں نے کہا، افغانستان "تاجکستان کی حکومت سے مکمل تعاون کرنے کا یقین دلاتا ہے اور اس واقعے کی وجوہات جاننے کی غرض سے معلومات کے تبادلے، تکنیکی تعاون اور مشترکہ جائزے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔"
جمعرات کو تاجکستان کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ حملہ گذشتہ رات افغانستان کے اندر سے ایک ڈرون کے ذریعے کیا گیا جو دستی بموں اور آتشیں اسلحے سے لیس تھا۔
وزارت نے افغان حکام سے سرحدی علاقے میں سکیورٹی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، "تاجکستان نے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں میں سلامتی برقرار رکھنے اور امن و استحکام کی فضا پیدا کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں لیکن ان کے باوجود افغان سرزمین میں واقع جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے تخریبی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔"
تاجکستان میں چینی سفارت خانے نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ "تاجک-افغانستان سرحدی علاقے میں سرمایہ کاری یا کام کرنے سے گریز کریں" اور جو لوگ پہلے سے وہاں موجود ہیں انہیں "جلد از جلد انخلاء" کی ہدایت کی ہے۔
تاجکستان اور افغانستان کے درمیان روابط طویل عرصے سے کشیدگی اور تنازعات کا شکار رہے ہیں بالخصوص 2021 میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد سے جب تاجکستان نے اپنے جنوبی ہمسایہ سے تمام تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ لیکن حالیہ سالوں میں تعلقات میں بتدریج بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں اور 2023 میں سرحدی علاقے کی مارکیٹیں دوبارہ کھل گئیں اور اس ماہ کے شروع میں ایک تاجک وفد نے کابل کا دورہ کیا ہے۔