امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور صدارت کے دوران ”آٹو پین“ سے دستخط شدہ تمام سرکاری دستاویزات "منسوخ" ہو گئی ہیں۔ یہ اعلان ریپبلکن صدر کی جانب سے اپنے ڈیموکریٹک پیش رو پر بڑھتی ہوئی تنقید کے دوران سامنے آیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر تحریر کیا کہ "جو بائیڈن نیند میں ڈوبا ہوا تھا جس نے خودکار دستخطی نظام کے ذریعے تقریباً 92 فیصد سرکاری کاغذات منظور کیے وہ سب اب کالعدم ہیں، ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہی"۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ "تمام ایگزیکٹو آرڈرز اور ہر وہ حکم نامہ ختم کر رہے ہیں جس پر جو بائیڈن بدعنوان کے خود ہاتھ سے دستخط موجود نہیں، کیونکہ خودکار دستخط استعمال کرنے والوں نے یہ کام غیر قانونی طور پر کیا۔"
ٹرمپ بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ بائیڈن نے صدارتی معافی نامے، ایگزیکٹو احکامات اور دیگر سرکاری کارروائیاں خودکار دستخطی نظام کے ذریعے منظور کیں۔ اگرچہ سابق صدور بھی بعض اوقات دستخطی آٹومیشن استعمال کر چکے ہیں تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بائیڈن کے دور میں اس نظام کے استعمال سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر اہل نہیں تھے اور وہ خود وائٹ ہاؤس نہیں چلا رہے تھے۔
قانونی ماہر ایڈ وِیلن نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ٹرمپ کو مکمل اختیار ہے کہ وہ کسی بھی ایگزیکٹو آرڈر کو منسوخ کریں چاہے اس پر بائیڈن نے خود دستخط کیے ہوں یا خودکار دستخطی نظام نے۔
امریکی وزارت انصاف نے سنہ2005 میں واضح کیا تھا کہ صدر کے لیے ہر قانون پر ہاتھ سے دستخط کرنا ضروری نہیں اور وہ کسی ذمہ دار شخص کو ہدایت دے سکتا ہے کہ "صدر کے دستخط" لگا دے خواہ وہ خودکار طریقے سے ہی کیوں نہ ہوں۔
سنہ2011 میں نیویارک ٹائمز نے بتایا تھا کہ براک اوباما یورپ میں قیام کے دوران خودکار دستخطی نظام سے قانون منظور کرنے والے پہلے صدر تھے۔
اپنے دور صدارت کے اختتام پر جو بائیڈن نے کئی افراد کو معافی دی جن میں ان کا بیٹا ہنٹر شامل تھا اور وہ کانگریس کے ارکان بھی جنہوں نے ٹرمپ کے خلاف تحقیقات کیں، اس کے علاوہ وہ فوجی کمانڈر جس نے ان پر تنقید کی تھی۔ اس کے علاوہ اور ناقدین میں ان کی کرونا وباسے نمٹنے والی حکمت عملی مرتب کرنے والے ڈاکٹر انتھونی فاوشی بھی شامل تھے۔