چاد کا انوکھا تہوار: جہاں خواتین اپنا شریکِ زندگی خود چنتی ہیں
مرد حاضر خواتین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کرتے ہیں اور مقامی روایتی اجتماعی رقص پیش کرتے ہیں، جن میں سب سے مشہور ''غِیروول '' کا رقص ہے
موسم برسات کے اختتام پر چاد میں مبورورو قبائل ''گیریول ''نامی عوامی رقص اور نوجوانوں کے جشن کے لیے جمع ہوتے ہیں، جس میں خوبصورت خواتین کا انتخاب بھی کیا جاتا ہے۔ اس سالانہ جشن کی خاص بات مردوں کے لیے ہونے والا حسن اور رقص کا مقابلہ ہے، جس کا مقصد شادی کے اہل خواتین کی توجہ حاصل کرنا ہے، تاکہ وہ رقص کرنے والے مردوں میں سے اپنا پسندیدہ شریکِ حیات چن سکیں۔
اس دلچسپ رواج کے تحت خواتین ناظرین کی صفوں میں بیٹھتی ہیں اور مردوں کے مظاہرے کو غور سے دیکھتی ہیں۔ خواتین بالکل آزادانہ طور پر فیصلہ کرتی ہیں کہ کون سا مرد ان کے لیے موزوں شریکِ زندگی ہو سکتا ہے۔ یہ پہلو اس میلے کو منفرد بناتا ہے، کیونکہ ایک روایتی معاشرے میں خواتین کو اپنی زندگی کا ساتھی خود منتخب کرنے کا حق ملتا ہے۔
مرد خواتین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اجتماعی روایتی رقص کرتے ہیں، جن میں سب سے مشہور رقص "گیروول" ہے۔ وہ خوبصورت لباس اور زیورات پہنتے ہیں اور اپنے چہروں اور ہاتھوں پر نفیس نقوش بناتے ہیں۔
مقامی روایات کے مطابق چاد کے اس علاقوں کے قدیم چرواہے اور کسان موسم برسات کے اختتام پر "رابطے کے رسوم" ادا کرتے تھے تاکہ موسم خشک ہونے سے پہلے دوسرے علاقوں کی چراگاہوں کی تلاش کے لیے قبائل میں بکھرنے سے پہلے رشتے اور تعلقات قائم کیے جا سکیں۔
نوجوان کسان اور چرواہے جمع ہوتے، روایتی رقص کرتے اور کھیلوں میں مقابلہ کرتے تاکہ اپنی صلاحیت اور شادی کے لیے تیاری کا ثبوت دے سکیں۔
بعد ازاں یہ رسومات ایک منظم میلے کی شکل اختیار کر گئیں، جو نوجوانوں کو صحرائے عظیم کے جنوبی کنارے پر جمع کرتا ہے۔ میلے کے دوران وہ اپنے ساتھی یا مددگار تلاش کرتے ہیں ،جو انہیں سفر اور زندگی میں ساتھ دے سکے، قبل اس کے کہ وہ نئی چراگاہوں کی تلاش میں بکھر جائیں۔
خواتین فیصلہ کرتی ہیں
گیریول میلہ اس مقصد کے لیے منعقد ہوتا ہے کہ شادی کے اہل خواتین کو راغب کیا جا سکے، تاکہ وہ ایسے شوہر کا انتخاب کریں، جس کے ساتھ وہ موسمی سفر کے دوران بارش کے اختتام پر نائجیریا، کیمرون یا وسطی افریقی جمہوریہ میں جا سکیں۔
نوجوان اپنی خوبصورتی اور دلکشی کا استعمال کرتے ہیں تاکہ خواتین کی توجہ حاصل کر سکیں۔ وہ چمکدار میک اپ، زیورات اور سجے ہوئے لباس پہنتے ہیں۔ نوجوان خوبصورت رقص پیش کرتے ہیں، جن کے ساتھ مقامی نغمے بھی شامل ہوتے ہیں، تاکہ اپنی طاقت اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت دکھا سکیں۔
نوجوان سمجھتے ہیں کہ بدوی معاشرے میں شادی کے لیے آنے والی خواتین سے بات کرنا آسان نہیں۔ اس لیے وہ میلے کے دوران افریقی رنگوں سے چہرے سجاتے ہیں تاکہ ان کے سفید دانت اور چمکتی آنکھیں نمایاں ہوں۔ یہ صحت اور توانائی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور خواتین کے لیے شوہر کے انتخاب کا حوصلہ بڑھاتا ہے۔
رقص کے اختتام پر جس لڑکے کو عورت نے پسند کیا اور جس نے بھی اس انتخاب کو قبول کیا، وہ لڑکی کے خاندان کو کپڑے اور کچھ رقم پیش کرتا ہے۔ خاندان کی رضا مندی کے بعد شادی کا عقد مکمل ہوتا ہے۔ وہ لڑکیاں جنہیں میلے میں موجود مرد پسند نہیں آتے، انہیں اگلے میلے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔