جوہری پروگرام ہمارا حق، مسئلہ بیرونی دباؤ کا ہے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران نے ایک بار پھر اپنے ’’جوہری پروگرام‘‘ کے حق پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو یہ حق بین الاقوامی قانون اور معاہدہ عدم پھیلاؤ کے تحت حاصل ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج پیر کے روز اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام پر مؤقف بالکل واضح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں بین الاقوامی قانون اور معاہدہ عدم پھیلاؤ کی رو سے تسلیم شدہ حق کے دائرے میں انجام دی جا رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’جوہری معاملہ ابتدا ہی سے غیر منطقی انداز میں ایک بین الاقوامی تشویش کے مسئلے کے طور پر پیش کیا گیا، حالانکہ اس کی بنیادی نوعیت میں کوئی پیچیدگی موجود نہیں‘‘۔

’ ایران بند گلی میں نہیں‘

اسماعیل بقائی کے مطابق ’’بن بست کی بات بلاجواز ہے اصل مسئلہ ایران میں نہیں بلکہ ان طاقت ور بیرونی فریقوں کی پالیسیوں میں ہے جو دباؤ اور قوت کے استعمال پر تکیہ کرتے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’اس مسئلے کا حقیقی حل تب ممکن ہوگا جب یہ ممالک ایران کے ان حقوق کو تسلیم کریں جن کی ضمانت معاہدہ عدم پھیلاؤ دیتا ہے اور غیر قانونی مطالبات اور مداخلت سے باز رہیں‘‘۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران معاہدے کے دیگر رکن ممالک کی طرح اپنے قانونی حقوق سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لئے بھی پُرعزم ہے اور یہ مؤقف تمام مذاکرات میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔

چند روز قبل ایرانی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے بھی واشنگٹن کے ساتھ جوہری پروگرام پر سنجیدہ مذاکرات کی آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم انہوں نے یہ شرط رکھی کہ مذاکرات کے نتائج امریکہ کی جانب سے پہلے سے طے شدہ نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے بھی گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ جوہری پروگرام پر متوازن اور دونوں فریقوں کے مؤقف کو ملحوظ رکھنے والا معاہدہ کرنے کے لئے تیار ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ اور ایران نے سنہ 2025ء میں سلطنت عمان کی ثالثی میں جوہری مذاکرات کے پانچ ادوار مکمل کیے، تاہم کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

چھٹے دور کے آغاز سے قبل ہی اسرائیل نے ایرانی سرزمین پر اچانک حملہ کر دیا جس کے بعد امریکہ نے بھی اہم جوہری تنصیبات پر فضائی کارروائیاں کیں۔ بعد ازاں ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران ایران اور یورپی فریقوں کے درمیان ہونے والی بات چیت بھی اس معاملے کا کوئی حل نکالنے میں ناکام رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں