رفح میں ایک ہفتے کے دوران 40 سے زیادہ مسلح افراد کو ہلاک کر دیا : اسرائیل

مرنے والوں میں حماس کے رہنما اور مذاکراتی وفد کے رکن غازی محمد کا بیٹا بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ اس نے گذشتہ ہفتے کے دوران غزہ کی پٹی میں واقع شہر رفح میں اپنے زیر کنٹرول علاقے میں سرنگوں کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں انجام دیں ... اور اس دوران "40 سے زائد مسلح افراد کو ہلاک کر دیا گیا"۔

فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ گذشتہ چالیس دنوں کے دوران اس کی فورسز نے مشرقی رفح کے علاقے پر توجہ مرکوز کی "تاکہ زیرِ زمین موجود سرنگوں کے راستوں کو ختم کیا جا سکے اور ان میں چھپے ہوئے مسلح افراد کو نشانہ بنایا جا سکے"۔

مزید یہ کہ اس علاقے میں سرنگوں کے درجنوں داخلی راستے اور اُن کے زیرِ زمین و زمینی ڈھانچے کو بھی تباہ کیا گیا۔

اسرائیلی فوج نے اتوار کی صبح بتایا تھا کہ اس نے "چار مسلح افراد کو ہلاک کیا" جو گذشتہ رات رفح میں سرنگوں سے باہر نکلے تھے۔

اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں حماس تنظیم کے ماتحت مشرقی رفح کا ایک کمانڈر اور اس کا نائب بھی شامل ہیں۔

اسی دوران حماس کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ تنظیم کے رہنما اور اس کے مذاکراتی وفد کے رکن غازی حمد کا بیٹا عبداللہ رفح میں جاں بحق ہو گیا۔

عبداللہ کے بھائی محمد حمد نے اپنے بھائی کی موت پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ "رفح کی سرنگوں میں محاصرہ زدہ حالت میں لڑتے ہوئے شہید ہوا"۔ یہ بات فلسطینی میڈیا سینٹر نے بتائی۔

یہ سب ایسے وقت ہوا ہے جب اسرائیلی فوج رفح کے اندر محصور حماس تنظیم کے جنگجوؤں کا تعاقب کر رہی ہے۔

گذشتہ جمعے کو فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے 30 مسلح افراد کو ہلاک کیا جو رفح کی سرنگوں میں موجود تھے، جن میں سے 9 مشرقی شہر کے علاقے میں مارے گئے۔

تاہم پس پردہ جاری مذاکرات اب تک کسی ایسے حل تک نہیں پہنچ سکے ہیں جو رفح میں محصور جنگجوؤں کے بحران کو ختم کر سکے۔ اسرائیلی تجویز کے مطابق جنگجو اپنے ہتھیار ڈال کر شکست کا اعلان کریں اور اپنے اسلحے کو اسرائیلی فورسز کے حوالے کریں، جبکہ حماس تنظیم اس مطالبے کو مسترد کرتی ہے۔

اسرائیلی اندازوں کے مطابق اب بھی 100 سے زیادہ جنگجو رفح کے نیچے سرنگوں کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں جو اسرائیلی فوجی کنٹرول کے علاقے میں آتے ہیں۔

دوسری جانب، حماس تنظیم کے ایک سینئر رہنما کا کہنا ہے کہ محصور جنگجوؤں کی تعداد 60 سے 80 کے درمیان ہوسکتی ہے، جن میں سے بیشتر کا تعلق القسام بریگیڈز سے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں