نیوزی لینڈ کی کک جزائر کو روسی، ایرانی تیل سمگلنگ میں ملوث ہونے پر تنبیہ
نیوزی لینڈ نے اپنے ہمسایہ کک جزائر کو تنبیہ کی ہے کہ وہ ایران اور روس کے تیل کی اسمگلنگ سے باز رہیں۔ یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب"اے ایف پی" کی رپورٹ کے مطابق پابندیوں سے متعلق ڈیٹا پر مبنی شواہد میں 34 جہازوں کے روسی اور ایرانی خام تیل کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے شکوک سامنے آئے۔ یہ جہاز جزائر کے پرچم تلے کام کر رہے تھے۔
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے جو کک جزائر کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے میں وابستہ ہیں منگل کو کہا کہ ’’یہ خارجہ پالیسی میں ناقابل قبول انحراف ہے‘‘۔
"اے ایف پی" کے تجزیات سے یہ بات سامنے آئی کہ مشتبہ تیل بردار جہاز جنوبی بحرالکاہل میں واقع اس ملک کے ساحلی دفتر کو اپنی نقل و حرکت چھپانے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
امریکی پابندیوں کے ڈیٹا کے مطابق سنہ 2024ء اور سنہ 2025ء کے درمیان 20 ایسے جہاز کک جزائر میں رجسٹرڈ تھے جو روسی اور ایرانی ایندھن کی سمگلنگ کے شبہ میں تھے۔
اسی طرح 14 اور تیل بردار جہاز جو کک جزائر کے پرچم تلے کام کر رہے تھے، کو برطانیہ کی الگ پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا، جس میں اسی مدت کا احاطہ کیا گیا۔