جنگ بندی کے باوجود غزہ میں آگ برس رہی ... رفح اور خان یونس میں اسرائیل کے نئے حملے
فائر بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک 356 فلسطینی جاں بحق اور 908 زخمی ہو چکے ہیں
اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے طے شدہ معاہدے کے باوجود غزہ کی پٹی میں متعدد مقامات پر بم باری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ العربیہ کے نمائندے کے مطابق اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح پر شدید فضائی حملے کیے۔
نمائندے نے یہ بھی بتایا کہ خان یونس کے مشرقی علاقوں پر بھاری توپ خانے سے گولہ باری کی گئی جبکہ غزہ شہر کے مشرق میں واقع الزيتون اور الشجاعیہ کے رہائشی علاقوں میں گھروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے گذشتہ چند دنوں کے دوران جنوبی رفح کے علاقے میں سرنگوں کو نشانہ بنانے والی فضائی اور زمینی کارروائیوں میں "40 سے زائد مسلح افراد" کو ہلاک کر دیا۔
خان یونس کے مشرقی حصے میں جو ’’یلو لائن‘‘ کہلاتا ہے، پیر کے روز ایک نئی عسکری جارحیت دیکھی گئی جب اسرائیلی توپ خانے نے کئی مقامات پر شدید گولہ باری کی۔ اس کے ساتھ ساتھ نیچی پرواز کرنے والے ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ بھی کی گئی، جو شہر کے مشرقی محور میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت ہے۔
اسی ’’یلو لائن‘‘ کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی کے مشرق میں اسرائیلی فضائیہ نے متعدد علاقوں پر حملے کیے اور الشجاعیہ اور التفاح کے محلّوں کو راکٹوں سے نشانہ بنایا۔
گیارہ اکتوبر کو جنگ بندی کے نافذ ہونے کے بعد سے اب تک 356 فلسطینی جاں بحق اور 908 زخمی ہو چکے ہیں۔ اس طرح سات اکتوبر 2023 کو جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی بم باری میں جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 70,103 اور زخمیوں کی تعداد 170,985 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار غزہ میں وزارت صحت کی جانب سے جاری کیے گئے۔