معافی کی درخواست ملک میں تشویش پیدا کر رہی ہے ، دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکوں گا
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ہرزوگ ممکنہ طور پر معافی منظور کر سکتے ہیں بشرطیکہ نیتن یاہو قبل از وقت انتخابات کا اعلان کر دیں
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کو وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے معافی کی درخواست کے معاملے میں دباؤ اور ضمنی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ ہرزوگ نے یقین دہانی کرائی کہ وہ نیتن یاہو کی جانب سے جمع کرائی گئی معافی کی درخواست کو ممکنہ حد تک بہترین اور درست طریقے سے نمٹائیں گے۔ ان کے مطابق ریاست اور اسرائیلی معاشرے کا مفاد ہی ان کی واحد ترجیح ہے۔
یہ ہرزوگ کا نیتن یاہو کی معافی کی درخواست پر پہلا ردّ عمل ہے، جو ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں سیاسی، قانونی اور عوامی سطح پر شدید تقسیم اور تنازع موجود ہے۔ ہرزوگ نے کہا کہ ان کے سامنے یہ واضح ہے کہ معافی کی درخواست ملک میں تشویش اور وسیع مباحثہ پیدا کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ پر تشدد اور دھمکی آمیز خطاب ان پر اثر انداز نہیں ہو گا اور مہذب گفتگو بحث کو آگے بڑھاتی ہے۔ ہرزوگ نے اسرائیلی عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنا موقف پیش کریں، صدارتی ویب سائٹ پر جائیں اور اپنی رائے ظاہر کریں۔
اسرائیلی اخبار یدیعوت آحرونوت کے مطابق ہرزوگ دراصل بعض اسرائیلی حکام کی جانب سے دی گئی ضمنی دھمکیوں کا جواب دے رہے تھے کہ اگر وہ نیتن یاہو کی درخواست قبول نہ کریں۔ خاص طور پر وزیرِ ماحولیات عیدیت سِلمن نے کہا کہ اگر صدر نے اسرائیل کی سلامتی کے مفاد کا تحفظ نہ کیا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مداخلت کر سکتے ہیں اور عدالتی نظام کے اعلیٰ عہدے داروں پر پابندیاں لگا سکتے ہیں۔ اس سے قبل ٹرمپ نے خط کے ذریعے نیتن یاہو کے لیے معافی کی حمایت بھی کی تھی۔
اگرچہ نیتن یاہو نے معافی کی درخواست کو تقسیم ختم کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا، لیکن اس درخواست نے سیاسی اور قانونی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اسرائیلی ٹی وی "چینل 13" نے امکان ظاہر کیا کہ ہرزوگ معافی منظور کر سکتے ہیں بشرطیکہ نیتن یاہو قبل از وقت انتخابات کا اعلان کریں۔ کچھ رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا کہ ہرزوگ عارضی طور پر سبک دوش ہو سکتے ہیں یا عدالتی اصلاحات روک دی جائیں، لیکن صدارتی دفتر نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ درخواست پر ابھی کوئی غور نہیں ہوا۔ نیتن یاہو کے قریبی حلقوں نے کسی بھی قسم کی سبک دوشی یا جرم کے اعتراف کی بات کو مسترد کیا اور کہا کہ معافی کی درخواست ٹرمپ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں دی گئی ہے۔ ان کے مطابق نیتن یاہو کا موقف ہے "یا سب کچھ… یا کچھ بھی نہیں!"
نیتن یاہو پر چار فوجداری الزامات ہیں جن میں رشوت، دھوکہ دہی اور اختیارات کا ناجائز استعمال شامل ہیں، جو غیر قانونی تحائف اور میڈیا پر اثر انداز ہونے سے متعلق ہیں۔ ایک قانونی ماہر کے مطابق مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے معافی دینا نایاب ہے اور معافی عام طور پر اُس وقت دی جاتی ہے جب ملزم جرم کا اعتراف کرے، جو بظاہر نیتن یاہو کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔