"میں انھیں اپنے ملک میں نہیں چاہتا"... ٹرمپ کا صومالیوں پر مرکوز سکیورٹی آپریشن کا منصوبہ

وفاقی حکام منیسوٹا ریاست میں ایک آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس کا محور صومالی تارکینِ وطن ہیں : اے پی نیوز ایجنسی ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی وفاقی حکام منیسوٹا ریاست میں ایک ہدفی آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں، جس کا مقصد امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ اس میں بنیادی توجہ اُن صومالی تارکینِ وطن پر ہو گی جو امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔ یہ خبر منگل کے روزایسوسی ایٹڈ پریس نیوز ایجنسی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے دی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست میں مقیم صومالی کمیونٹی کے خلاف اپنے بیانات تیز کر دیے ہیں۔ یہ بات اس منصوبے سے واقف ایک ذریعے نے ایجنسی کو بتائی۔

یہ آپریشن آئندہ چند دنوں میں شروع ہو سکتا ہے اور اس کا مرکز سینٹ پال اور منیپولس کے وہ افراد ہوں گے جن کے خلاف “بے دخلی کے حتمی احکامات” جاری ہو چکے ہیں۔

مذکورہ ایجنسی کے مطابق امیگریشن سے متعلقہ حکام دونوں شہروں میں پھیل جائیں گے اور اسے “ایک ترجیحی، ہدفی سرچ آپریشن” قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ منصوبے کی آخری شکل ابھی طے نہیں اور اس میں تبدیلی ممکن ہے۔

صومالی تارکینِ وطن کو نشانہ بنانے والے اس بڑے پیمانے کے امیگریشن آپریشن کا امکان، منیسوٹا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اسی ریاست میں ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں اُن افراد پر سخت تنقید کی ہے جو صومالی نژاد ہیں اور امریکہ میں مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان لوگوں نے “بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں۔”

منیسوٹا میں ملک کی سب سے بڑی صومالی کمیونٹی موجود ہے۔ ان میں سے اکثر اپنے مشرقی افریقی ملک میں طویل خانہ جنگی کے باعث بھاگ کر آئے تھے اور وہ ریاست کے خیرسگالی پر مبنی سماجی پروگراموں کی وجہ سے یہاں آباد ہوئے۔

منصوبے سے واقف ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ توقع ہے کہ آپریشن میں سیکڑوں افراد کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس نے مزید کہا کہ جیسا کہ ماضی کی امیگریشن کارروائیوں میں ہوا، یہاں بھی “غیر ہدفی” گرفتاریاں ممکن ہیں، یعنی ایسے افراد بھی پکڑے جا سکتے ہیں جنہیں اصل میں نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔

اسی تناظر میں منگل کو کابینہ کے ایک طویل اجلاس کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکہ میں صومالی تارکینِ وطن نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد امریکی سماجی فلاحی نیٹ ورک پر شدید انحصار کرتے ہیں اور “امریکہ کے لیے بہت کم اضافہ کرتے ہیں۔”

امریکی صدر نے کہا کہ "وہ کچھ بھی حصہ نہیں ڈالتے۔ ان کی فلاحی انحصار کی شرح تقریباً 88 فی صد ہے یا اس کے آس پاس، وہ کچھ نہیں دیتے ... میں انہیں اپنے ملک میں نہیں چاہتا۔ اُن کا ملک کسی وجہ سے اچھا نہیں۔ تمہارا ملک گندا ہے اور ہم اسے اپنے ملک میں نہیں چاہتے۔”

ایک صومالی نژاد امریکی شہری جیلالی حسین منیسوٹا میں کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ منیسوٹا میں موجود تقریباً 95 فی صد صومالی افراد امریکی شہری ہیں اور صرف “بہت ہی تھوڑا سا حصہ” امیگریشن کے ابتدائی مراحل میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں