امریکہ اور روس کے صدور کی جانب سے گذشتہ منگل ہونے والی یوکرین سے متعلق امن بات چیت کو اہم اور مثبت قرار دینے کے بعد کریملن نے واضح کیا ہے کہ ماسکو اب واشنگٹن کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔ کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے جمعہ کو اپنے بیان میں کہا کہ ’’ہم منگل کی گفتگو پر اپنے امریکی ساتھیوں کے ردعمل کے منتظر ہیں‘‘۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر جو چند روز قبل امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف کے ساتھ ماسکو آئے تھے ’’یوکرین بحران کے تصفیے کے لیے بہت سرگرمی سے کام کر رہے ہیں‘‘۔
اوشاکوف کے مطابق ’’یورپی ممالک یوکرین کے حوالے سے مسلسل ناقابل قبول مطالبات پیش کرتے رہتے ہیں‘‘۔
ویٹکوف سے ملاقات کا کوئی نیا شیڈول نہیں
اوشاکوف نے مزید کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کسی ٹیلی فونک رابطے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف کے ساتھ کسی نئی ملاقات کی تاریخ بھی طے نہیں کی گئی۔
روسی صدر نے جمعرات کو ویٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ اپنی ملاقات کو ’’ضروری اور انتہائی سودمند‘‘ قرار دیا تھا جیسا کہ ریا نووستی نے نقل کیا۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’یوکرین بحران کا حل تلاش کرنا ایک مشکل کام ہے‘‘ اور چند امور پر اب بھی اتفاق نہیں ہو سکا۔
ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ ان کا ملک ’’دونباس پر فوجی یا کسی اور طریقے سے کنٹرول حاصل کر لے گا‘‘۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب بدھ کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر امن چاہتے ہیں اور مذاکرات بہت اچھے رہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ تنبیہ بھی کی کہ بات چیت کا مستقبل ابھی غیر واضح ہے۔
اب بھی روس اور یوکرین کے درمیان امریکی امن تجویز کی کئی شقیں زیر بحث ہیں۔ اس تجویز میں 19 نکات شامل ہیں جو پہلے 28 تھے مگر بعد میں کم کر دیے گئے۔ ان میں سب سے اہم معاملہ مشرقی یوکرین کے دونباس کا ہے کہ آیا کیف اسے چھوڑ دے یا اسے روسی کنٹرول میں دیا جائے۔ اسی طرح یوکرین کا نیٹو میں عدم شمولیت، اس کی فوجی تعداد میں کمی اور مغربی سکیورٹی ضمانتوں کا معاملہ بھی اہم نکات میں شامل ہے۔