بلوچستان میں چمن اور سپین بولدک سرحد پر حکام کے مطابق پاکستانی فوج اور افغان فورسز کے درمیان جمعے کی رات فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے، تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر جھڑپ شروع کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔
کابل اور اسلام آباد کے درمیان سرحدی کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے ہونے والی بات چیت نومبر میں ختم ہوگئی تھی لیکن اکتوبر میں قطر کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی زیادہ تر برقرار رہی ہے۔
افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعے کو ہوئے فائرنگ کے تبادلے پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی فورسز نے قندھار کے ضلع سپین بولدک میں فائرنگ کا آغاز کیا، جس کے جواب میں امارتِ اسلامیہ کی فورسز کو کارروائی کرنا پڑی۔
دوسری جانب پاکستان نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فائرنگ طالبان فورسز نے بغیر کسی وجہ کے شروع کی۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی نے سماجی رابطے کی سائٹ ‘ایکس’ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ افغان طالبان نے چمن بارڈر پر بلااشتعال فائرنگ کی جس کا پاک فوج نے فوری اور مؤثر جواب دیا۔ مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار اور چوکس ہے۔
تصادم کے درمیان سامنے آنے والے مناظر میں مقامی لوگوں کو جھڑپ کے مقام سے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ جبکہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان چمن کی سرحدی گزرگاہ ‘بابِ دوستی’ کی تباہی کے مناظر بھی سامنے آئے۔
پاکستان اور افغانستان میں فائرنگ کا تبادلہ اس پیش رفت کے بعد ہوا ہے جب پاکستان نے کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کو چمن اور طورخم کی سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے افغانستان کو امدادی سامان بھیجنے کی اجازت دے گا، جو تقریباً دو ماہ سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث زیادہ تر بند رہی ہیں۔
گذشتہ پچاس سے زائد دنوں سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان لوگوں کی آمد و رفت معطل ہے۔ تجارتی راستے بھی تقریباً بند پڑے ہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کو بھاری مالی نقصان ہو رہا ہے۔
پاکستان کی جانب سے صرف افغان شہریوں کو واپسی کی اجازت دی جا رہی ہے جبکہ باقی سرگرمیاں رکی ہوئی ہیں۔