امریکہ نے یمن میں اپنے سفارت خانے کے موجودہ اور سابق مقامی ملازمین کی حوثیوں کے ہاتھوں حراست کی مذمت کی ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ٹومی بیگوٹ نے ایک بیان میں کہا "ریاست ہائے متحدہ امریکہ حوثیوں کی جانب سے یمن میں امریکی مشن کے موجودہ اور سابق مقامی ملازمین کی جاری غیر قانونی حراست کی مذمت کرتی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا "حوثیوں کی جانب سے ان ملازمین کو گرفتار کرنا اور ان کے خلاف کی جانے والی کاروائیاں اس بات کا ایک اور ثبوت ہیں کہ حوثی اپنی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے اپنے ہی عوام کے خلاف دہشت کے استعمال پر انحصار کرتے ہیں۔"
اطلاعات کے مطابق حوثی گروہ نے اتوار کے روز صنعاء میں 13 مغوی افراد کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کی ہے، جن پر امریکی خفیہ ایجنسی کے لیے جاسوسی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
یہ اقدام ان تیز رفتار عدالتی کارروائیوں کے چند ہی دن بعد سامنے آیا ہے جن میں 19 مغویوں کے خلاف مقدمات چلائے گئے اور ان میں سے 17 کو اسی نوعیت کے الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی۔ یہ وہی الزامات جو حوثی ملیشیا عموما اپنے مخالفین پر لگاتی رہتی ہے۔
انسانی حقوق کے ذرائع کے مطابق جن افراد کا اب مقدمہ چل رہا ہے، ان میں امریکی سفارت کے تین سابق ملازمین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں اور تنظیموں کے چھ ایسے ملازمین بھی شامل ہیں جو کئی برسوں سے بغیر کسی قانونی جواز یا بنیادی حقوق تک رسائی کے حراست میں رکھے گئے ہیں۔