یمن کا معروف فن غنائی "الدان الحضرمی" یونیسکو کے عالی ورثے کی فہرست میں شامل
الدان الحضرمی یمن کے صوبے حضر موت سے وابستہ ایک قدیم عوامی فن غنائی ہے جو شاعری، موسیقی اور رقص کا مجموعہ ہوتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم "یونیسکو" (UNESCO) نے یمن کے معروف فن غنائی "الدان الحضـرمی" کو غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ اس فیصلے کا یمن بھر میں بالخصوص حضر موت صوبے کے لوگوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا۔ اس پیش رفت کو اس قدیم اور مقبول عوامی فن غنائی کے عالمی سطح پر اعتراف اور نسلوں تک پھیلے ایک تہذیبی ورثے کی توثیق قرار دیا جا رہا ہے۔
یونیسکو کی غیر مادی ثقافتی ورثے کی کمیٹی نے باقاعدہ طور پر، نئی دہلی میں ہونے والے اپنے بیسویں اجلاس کے دوران "الدان الحضرمی" کو عالمی غیر مادی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔
یمن کے مستقل سفیر برائے یونیسکو محمد جمیح نے اس عالمی اعتراف پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ "الدان الحضـرمی" کی قدر و اہمیت کا بین الاقوامی اعتراف ہے جو حضر موت اور پورے یمن کی ثقافتی و تہذیبی شناخت کا لازمی حصہ ہے۔
انہوں نے حضرموت سمیت پورے ملک میں فن کاروں اور عوامی حلقوں کو مبارک باد پیش کی۔
جمیح کا کہنا تھ اکہ "الدان الحضرمی اس شمولیت کا پوری طرح مستحق ہے۔ یہ کئی برسوں کی محنت کا نتیجہ ہے ... جب اس کی شمولیت کا خیال پیش ہوا تھا، آج وہ تصور عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔"
الدان الحضرمی یمن کے صوبے حضر موت سے وابستہ ایک قدیم عوامی فن غنائی ہے جو شاعری، موسیقی اور رقص کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس کی خاص پہچان لفظ "دان" کی مسلسل تکرار کے ساتھ پیش کیے جانے والے نغمات اور مختلف سُروں و موسیقی کی لے ہے۔
یہ فن خاص نشستوں میں پیش کیا جاتا ہے جنہیں "جلسات الدان" کہا جاتا ہے، جہاں موسیقی کے مختلف انداز جیسے الريض، الحيقی، الهبيش پیش کیے جاتے ہیں۔
یہ مجموعی طور پر حضر موت کی ثقافتی اور تاریخی شناخت کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ الدان الحضـرمی کا عالمی فہرست میں شامل ہونا اس ورثے کے تحفظ اور اسے معدوم ہونے سے بچانے کی ضمانت ہے۔
یہ فیصلہ حکومت اور معاشرے کے لیے بھی ایک دعوت ہے کہ وہ اس فن کی سرپرستی کریں، اسے محفوظ بنائیں اور ہر ممکن ذریعے ... صوتی و بصری ریکارڈنگ، تحریری دستاویزات، تحقیق اور تعلیمی مطالعے ... کے ذریعے اسے دستاویزی شکل دیں۔
حضر موت کے متعدد ادیبوں، دانش وروں اور لکھاریوں نے اس بات پر زور دیا کہ الدان الحضـرمی کا عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہونا محض اعزاز نہیں، بلکہ اس روایتی فن کے تحفظ کی مضبوط ضمانت بھی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب یمن مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔