دہشت گردی کا نیا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھارہا ہے: وزیر اعظم شہباز شریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا ایک نیا خدشہ افغانستان سے جنم لے رہا ہے، اس لیے عالمی برادری کو چاہیے کہ افغان حکومت پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔

ترکمانستان کے شہر اشک آباد میں عالمی امن فورم سے خطاب میں وزیراعظم نے 2025 کو بین الاقوامی سالِ امن قرار دینے کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی امن کے فروغ میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے اور تنازعات کا پرامن حل ہمیشہ سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول رہا ہے۔

شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان کی حمایت سے غزہ کے لیے امن منصوبہ منظور ہوا، جبکہ جنگ بندی کے لیے تعاون پر سعودی عرب، قطر، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، اردن اور ایران کے شکر گزار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں امن کے لیے پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی ناگزیر ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پائیدار امن اور پائیدار ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجیز تک مساوی رسائی، مالی شمولیت اور خواتین کی قومی دھارے میں شمولیت حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔

انہوں نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ افغانستان سے ابھرتے ہوئے دہشت گردی کے خطرات پر عالمی برادری کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے اور افغان حکام کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے پر آمادہ کرنا ہوگا۔

دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو اشک آباد میں بین الاقوامی امن اور اعتماد کے سال کے پروگراموں کے سلسلے میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیژشکیان سے ملاقات کی ہے، جس میں دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعاون کو مضبوط کرنے کے عزم کو دہرایا۔

وزیراعظم کے دفتر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے رواں سال کے آغاز میں ایک دوسرے کو بیرونی جارحیت کے واقعات کے دوران دی جانے والی حمایت کو سراہا۔

وزیراعظم نے 22ویں پاک ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن کی کامیاب میٹنگ کا ذکر کیا اور دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے، بارڈر مارکیٹس کو فعال بنانے، بارڈر سیکورٹی کے تعاون کو بہتر بنانے اور خطے میں ٹرانسپورٹ روابط، بالخصوص اسلام آباد، تہران اور استنبول ریل راہداری کو دوبارہ فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

فوٹو بشکریہ وزیر اعظم ہاوس
فوٹو بشکریہ وزیر اعظم ہاوس

دونوں رہنماؤں نے خطے اور عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے افغان طالبان حکام پر مشترکہ دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان کے سرحد پار دہشت گردی سے متعلق “سنگین سیکورٹی خدشات” کا حل نکالا جا سکے۔

غزہ کی صورتِ حال پر بھی بات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں پر اپنے نقطۂ نظر کا تبادلہ کیا۔

صدر مسعود پیژشکیان نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کا خواہاں ہے اور اس تبادلۂ خیال کو بروقت اور تعمیری قرار دیا۔ حکام کے مطابق اس ملاقات نے روایتی طور پر قریبی تعلقات کی عکاسی کی ہے، جو مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب پر مبنی ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے نیک خواہشات بھی پہنچائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں