امریکہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی سے ملبہ ہٹانے کے اخراجات برداشت کرے
یدیعوت آحرونوت اخبار کے مطابق اسرائیل نے اخراجات اٹھانے پر رضامندی ظاہر کی ہے
اسرائیلی ویب سائٹ یدیعوت آحرونوت نے ایک سرکاری ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ تل ابیب نے غزہ کی پٹی سے ملبہ ہٹانے کے اخراجات ادا کرنے اور اس بھاری انجینیئرنگ آپریشن کی مکمل ذمہ داری قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے کی گئی درخواست کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے تل ابیب سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی سے ملبہ ہٹانے کے اخراجات برداشت کرے، کیونکہ دو سالہ جنگ نے اس علاقے کو تقریباً پوری طرح تباہ کر دیا ہے۔
اخبار کے مطابق اسرائیل نے اس مطالبے سے اصولی اتفاق کر لیا ہے اور وہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع رفح کے ایک علاقے کو خالی کرنے کا عمل شروع کرے گا تاکہ اس کی از سرِ نو تعمیر کی جا سکے۔
اخبار کے ذرائع کا کہنا ہے کہ توقع ہے اسرائیل کو پورے غزہ کی پٹی کا ملبہ صاف کرنا ہو گا۔ یہ عمل کئی برس تک جاری رہے گا اور اس پر مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر سے زیادہ لاگت آئے گی۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق غزہ میں تقریباً 6 کروڑ 80 لاکھ ٹن ملبہ موجود ہے۔ اس لیے کہ علاقے کی زیادہ تر عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے تخمینے کی بنیاد پر کیے گئے حساب کے مطابق یہ وزن نیویارک کی ایمپائر اسٹیٹ عمارت جیسے تقریباً 186 ٹاوروں کے برابر ہے۔
واضح رہے کہ ملبہ ہٹنا ... واشنگٹن کی سرپرستی میں طے پانے والے فائر بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے تحت، غزہ کی پٹی کی تعمیرِ نو شروع کرنے کی بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔
امریکہ چاہتا ہے کہ رفح کی تعمیرِ نو سب سے پہلے شروع ہو، اس امید کے ساتھ کہ اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی بحالی کے وژن کا کامیاب ماڈل بنایا جائے جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں کے بڑے پیمانے پر رہائشی یہاں منتقل ہوسکیں۔ اس کے بعد دیگر علاقوں کی تعمیرِ نو اگلے مراحل میں کی جائے گی۔
اسی ہفتے قطر نے بھی واضح کیا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ سے ہونے والے نقصان کی تلافی کی ذمہ داری صرف اور صرف اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔
امریکی میزبان ٹکر کارلسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں قطری وزیراعظم محمد عبد الرحمن آل ثانی نے کہا "ہم فلسطینیوں کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے، لیکن ہم وہ چیک نہیں بھریں گے جو دوسروں نے تباہ کیا ہے۔"
اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔