ٹرمپ کی گولڈن ویزا اسکیم، تیز رفتار امریکی اقامتی کارڈ متعارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ بدھ کو باضابطہ طور پر گولڈن کارڈ ویزا کے اجرا کا اعلان کیا، جو امیگریشن کے شعبے کا ایک نیا راستہ ہے۔ اس اسکیم کے تحت غیر ملکی ایک ملین ڈالر ادا کر کے اپنے ویزا درخواست کی کارروائی تیز کروا سکتے ہیں، جبکہ کمپنیاں کسی غیر ملکی ملازم کو امریکہ لانے کے لیے دو ملین ڈالر ادا کر کے اس کی کفالت کر سکیں گی۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک راؤنڈ ٹیبل اجلاس کے دوران کہا کہ یہ میرے لیے اور ملک کے لیے نہایت پرجوش موقع ہے، ہم نے ابھی ٹرمپ گولڈن کارڈ لانچ کیا ہے۔

ویب سائٹ کا اجرا اور تیز اقامت کا وعدہ

گولڈن ویزا کی سرکاری ویب سائٹ trumpcard.gov بدھ کی سہ پہر لانچ کی گئی، جس میں باضابطہ درخواست جمع کرانے کا لنک موجود ہے اور امریکہ میں ریکارڈ وقت میں اقامہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ تفصیلات امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ میں سامنے آئیں جن کا جائزہ العربیہ بزنس نے بھی لیا۔

ویب سائٹ کے مطابق وزارتِ داخلہ کے پاس پندرہ ہزار ڈالر کی پروسیسنگ فیس ادا کرنے اور سکیورٹی جانچ کی منظوری کے بعد غیر ملکی ایک ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے ٹرمپ گولڈن کارڈ کے ذریعے تیزی سے امریکی اقامہ حاصل کر سکتے ہیں۔

گولڈن کارڈ سے کون فائدہ اٹھا سکے گا؟

جمعرات کو فاکس نیوز سے گفتگو میں امریکی وزیرِ تجارت ہوارڈ لٹنک نے کہا کہ یہ پروگرام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ بہترین لوگ آئیں جو معاشی طور پر مضبوط ہوں اور ہماری معیشت کو سہارا دے سکیں۔

انہوں نے اس پروگرام کو گرین کارڈ کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط قرار دیا، کیونکہ گرین کارڈ کے ذریعے مہاجرین کو امریکہ میں مستقل رہائش اور کام کی اجازت دی جاتی ہے۔

درخواست کی کارروائی اور مدت

سرکاری ویب سائٹ کے مطابق مطلوبہ دستاویزات جمع کرانے کے بعد درخواست کی کارروائی میں چند ہفتے لگتے ہیں اور اس میں ذاتی انٹرویو بھی شامل ہوتا ہے۔ ہر درخواست گزار کی صورتحال کے مطابق وزارتِ خارجہ کی جانب سے اضافی فیس بھی عائد کی جا سکتی ہے۔

درخواست گذار کو ویزا انٹرویو میں شرکت اور مقررہ وقت میں اضافی دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی۔ کامیاب درخواست گزار کو EB-1 یا EB-2 ویزا کے تحت مستقل قانونی رہائشی کا درجہ دیا جائے گا، جو کام کی بنیاد پر جاری ہونے والے ویزے ہیں اور غیر معمولی یا نمایاں صلاحیتوں کے حامل افراد کے لیے مخصوص ہیں۔

مستقبل میں ٹرمپ پلاٹینم کارڈ

ویب سائٹ پر مستقبل میں ٹرمپ پلاٹینم کارڈ کے اجرا کا عندیہ بھی دیا گیا ہے اور غیر ملکیوں کو ویٹنگ لسٹ میں نام درج کرانے کی دعوت دی گئی ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق پانچ ملین ڈالر کے عوض اہل درخواست گزار امریکہ میں دو سو ستر دن تک قیام کر سکیں گے اور ان کی غیر امریکی آمدن پر امریکی ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔ تاہم پلاٹینم کارڈ کی دستیابی کی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا۔

روایتی امیگریشن نظام پر تنقید

واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد ٹرمپ کی جانب سے امیگریشن سخت کرنے کی مہم شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں گذشتہ ہفتوں کے دوران غیر ملکیوں کے لیے قانونی اور غیر قانونی داخلے کی بیشتر صورتوں کو معطل یا سخت کر دیا گیا۔

تاہم صدر ٹرمپ نے پہلی بار فروری میں گولڈن کارڈ پروگرام کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے تحت دولت مند غیر ملکیوں کو پانچ ملین ڈالر کے عوض شہریت کا راستہ دیا جائے گا۔ بعد ازاں ستمبر میں اسی مالیت پر ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا گیا جس کا باضابطہ اعلان بدھ کو کیا گیا۔

غیر ملکی سرمایہ کاروں کے EB-5 پروگرام میں ترمیم

ہوارڈ لٹنک نے فروری میں بتایا تھا کہ نیا ویزا غیر ملکی سرمایہ کاروں کے EB-5 پروگرام میں ترمیم کرے گا، جس کے تحت وہ امریکی منصوبوں میں سرمایہ کاری کر کے ملازمتیں پیدا کرتے ہیں اور پھر امیگریشن ویزا کے لیے درخواست دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم EB-5 معاہدے میں ترمیم کریں گے۔ میں اور وزیرہ داخلہ کرسٹی نوئم مل کر اس پر کام کر رہے ہیں۔ پانچ ملین ڈالر کے عوض انہیں وزارتِ تجارت سے اجازت ملے گی اور پھر وہ مناسب سرمایہ کاری کریں گے۔

امیگریشن قانون کے ماہرین پہلے ہی نشاندہی کر چکے ہیں کہ EB-5 پروگرام کے خاتمے یا بڑی تبدیلی کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔

بڑا معاشی ہدف

منصوبے پر عمل درآمد سے متعلق سوالات کے باوجود صدر ٹرمپ نے لاکھوں گولڈن کارڈ فروخت کیے جانے کا امکان ظاہر کیا۔ ہوارڈ لٹنک نے فروری میں کہا تھا کہ یہ پروگرام قومی قرض کم کرنے کے لیے ایک ٹریلین ڈالر تک جمع کر سکتا ہے۔

لٹنک اس سے قبل روایتی گرین کارڈ نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اس کے تحت ملک کو مہاجرین کے نچلے درجے کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ ان کے بقول ہم صرف اعلیٰ ترین اور غیر معمولی افراد کو ہی خوش آمدید کہیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں