شام: بشار رجیم کے خاتمے اور قومی بیداری کا ایک سال

ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ
ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 16 منٹ

شامی عوام نے کئی عشروں پر پھیلی آمرانہ حکومت کے جبر اور جبری ہتھکنڈوں کو بھگتا۔ یہ ایک منظم کرپشن و بد عنوانی کا بھی زمانہ تھا۔ گویا بشار الاسد جب تک اقتدار پر مسلط رہا، شامی عوام جبر اور کرپشن کی چکی کے دو پاٹوں میں مسلے کچلے جاتے رہے۔

اہل شام کی زندگی بشار رجیم کے دور میں خوف کی زندگی تھی، سنسر شپ کا ایسا دور تھا کہ اظہار رائے کی آزادی کا تصور بھی نہ کیا جا سکتا تھا۔ اسی طرح سیاسی آزادی کا تصور تھا نہ معاشی خوش انتظامی کا چلن۔ لوگوں کو مسلسل ایسے ماحول اور معاشرے میں رہنا تھا جہاں آزادی کی بات کرنا اور آزادیوں کے لیے آواز اٹھانا گویا اپنی موت کو دعوت دے کر ہمیشہ کی خاموشی اور نیند کے حوالے ہونے کی کوشش کرنا ہوتا تھا ساری ترقی، خوشحالی اور بہتری کے سارے مواقع ملک کی اشرافیہ کے لیے ہی مخصوص تھے۔ جبکہ عام لوگ نسل در نسل احساس تحفظ سے محروم، تشدد کا شکار اور خطرات کی زد پر رہتے تھے۔

بشار الاسد رجیم کے اقتدار کا خاتمہ پچھلے سال ہوا تو یہ شام اور اس کے عوام کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ یہ محض ایک لیڈر کی حکومت کا گرنا نہیں تھا۔ یہ ایک ایسے نظام کا خاتمہ تھا جس نے پورے شام کو کئی دہائیوں سے اپنے آہنی شکنجوں میں جکڑ رکھا تھا۔

اس آمرانہ رجیم کے خاتمے کو شام کے عوام نے اپنے لیے نئی زندگی کے طور پر لیا۔ دہائیوں بعد یہ موقع مل رہا تھا کہ شام کے عوام آزاد فضا میں سانس لے سکتے تھے۔ گویا یہ ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ بلا شبہ ایک ایسے دور کا آغاز تھا جو نئے امکانات کے دروازے بھی کھول رہاتھا جو حوصلے ، لچک، برداشت اور تحمل کا بھی متقاضی تھا۔

علاقائی سطح پر تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز

بشار رجیم کے اترنے کے بعد کے ابتدائی دنوں سے ہی شامی عوام کو علاقے کے ملکوں سے خوب مدد اور تعاون کا ماحول میسر آیا ہے۔ اس سلسلے میں پڑوسی ملکوں اور بطور خاص سعودی عرب اہم ملک ہے جس نے شام اور اس کے عوام کے لیے بنیادی اور ایک کلیدی شراکت دار کے طور پر امداد و حمایت پیش کی ہے۔ یہ سعودی عرب ہی ہے جس نے شام کو مالی امداد کے علاوہ سیاسی رہنمائی اور سفارتی حوالے سے غیر معمولی امداد دی ہے۔

سعودی عرب کی طرف سے ان مختلف شعبوں میں یہ کردار اور تعاون محدود نہیں تھا اور نہ ہی یہ انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد تک محدود تھی۔ بلکہ یہ سعودی عرب ہی تھا جس نے شام کے خلاف عائد پابندیوں کے خاتمے کے لیے بھی غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ نہ صرف سعودی عرب نے دوسرے ملکوں کو شام کے خلاف پابندیوں کے خاتمے کے لیے دوسرے ملکوں کی حوصلہ افزائی کی بلکہ شام کے ساتھ تجارت کے لیے بھی ہر ممکن سہولت بہم پہنچائی۔ حتیٰ کہ شام کی تعمیر نو میں بھی اپنے کردار کو نمایاں رکھا ہے۔

شام کے لیے یہ امداد و حمایت انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ اہل شام کے لیے سعودی عرب کی یہ حمایت ایسے وقت میں ملی ہے جب اہل شام تنہا اپنے ملک کو نئے سرے سے ایک ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جاسکتے تھے نہ شام کی تعمیر نو کا کام تنہا کرنے کی پوزیشن میں تھے۔ کیونکہ بشار رجیم ملک کو مکمل تنہائی میں دھکیل کر گئی ہے۔

تاہم بشار رجیم کے بعد اب معاملہ وہ نہیں رہا ہے۔ اب بشار رجیم کے خاتمے کے بعد علاقائی سطح پر شام کو تعاون میسر آنے لگا ہے۔ شام کو علاقے سے اخلاقی اور عملی تعاون ملنے لگا ہے۔ اس صورت حال نے شام کو خطے کا ایک معزز سفارتی شراکت دار ملک بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ شام علاقے اور اڑوس پڑوس کے ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی طرف مائل ہو چکا ہے۔ یوں مشرق وسطیٰ کی سیاست میں شام کا کردار پوری سرگرمی سے سامنے آنے لگا ہے کہ شام خطے میں اہم حیثیت پانے لگا ہے۔

شام کو ان ملکوں کی طرف سے ملنے والی یکجہتی اس امر کی مظہر ہے کہ وہ ملک شام کے ساتھ تذویراتی شراکت داری کے خواہاں ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کے حوصلے کا ایک اعتراف بھی ہے اور علاقے میں ان کے قانونی حق آزادی کی خواہش کو تسلیم کیا جانا بھی ہے۔

ان بیرونی اتحادیوں نے شروع سے ہی عوامی حقوق و حکومت کی پائیدار بحالی پر توجہ مرکوز کیے رکھی ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ملک شام کے مستقبل کو شامی قوم کی آزادی کے معاملے کے ساتھ ہی ساتھ علاقائی وعالمی سطح پر بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں۔

شامی عوام کی لچک بشارالاسد رجیم کا اقتدار ختم ہونے کے بعد گزرنے والے پہلے سال کی کہانی جو نمایاں تر ہو کر سامنے آئی ہے وہ شامی عوام کا لچک پسند ہو کر سامنے آنا ہے۔ اس کے باوجود کہ اہل شام نے کئی دہائیوں کے دوران جبر اور جنگ کا سامنا کیا۔ لیکن اس سارے عرصے کے دوران اور اب بشار رجیم کے بعد شامی عوام کی طرف سے غیر معمولی طور پر حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کیا جانا ہے۔ وہ سالہا سال تک لاکھوں کی تعداد میں بے گھر کیے گئے۔ بے وطنی کا شکار رہے۔ لیکن پورے حوصلے اور استقامت کے ساتھ رہے۔ اب جیسے ہی شام میں حالات کی بہتری کا اشارہ پایا تو اہل شام اپنے آبائی وطن، شہروں اور قصبوں کی طرف پلٹنے لگے۔

اس کے باوجود کہ ان کے پاس نقل و حمل کے وسائل نہیں ہیں۔ ان کے معاشی حالات دگرگوں ہیں۔ انہیں بے شمار سماجی چیلنجوں کا بھی سامنا ہے۔ مگر وہ بے خوف ہو کر ان شامی شہروں اور قصبات کی طرف پلٹ رہے ہیں جن شہروں کو وہ اپنے گھروں سمیت تباہ ہوتا دیکھ کر بے گھری پر مجبور ہوئے تھے۔ ان کے خیمے بتاتے ہیں کہ وہ حوصلے میں اور ایک عزم کے ساتھ ہیں۔ وہ خیموں میں رہ کر آہستہ آہستہ اپنے گھر بنائیں گے اور ایک نئی زندگی کو شروعات کریں گے۔ ان کے محلے اور بستیاں آہستہ آہستہ پھر سے جڑنا شروع ہو رہے ہیں۔ ویرانی و تباہی میں پھر سے آبادی کے اشارے مل رہے ہیں۔

نئے سرے سے سکول کھلنے کی امید بن رہی ہے۔ مقامی کاروباری پھر سے تجارت کی کوششوں میں لگ گئے ہیں۔ خیموں نے پھر سے کمیونٹی پروجیکٹس کی شکل اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔ یہ شام کے شہری ہی ہے جو اپنی پوری جانسپاری کے ساتھ اپنے قومی اداروں کی از سر نو تشکیل بھی کرنے جا رہے ہیں تاکہ اپنے ملک کی تعمیر نو اور بحالی میں حصہ ڈال سکیں۔ ہر نئی رکھی جانے والی اینٹ ان کی بہادری کو ظاہر کرتی ہے۔ کاروبار بحال ہو رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے دوبارہ کھل رہے ہیں۔ گویا ایک پوری قوم نئے سرے سے جنم لے رہی ہے۔

شامی عوام کا تعمیر نو کا یہ عزم ان کے انصاف اور مفاہمت کی بھی خواہش لیے ہوئے ہے۔ مختلف کمیونٹیوں نے آمریت کے بیتے برسوں کے دوران پیدا ہونے والی تکالیف اور شکایات کا ازالہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ سماجی سطح پر ہم آہنگی کے لیے لوگ متحرک ہیں۔ کام کرنا، شہریوں میں جوابدہی اور ذمہ دارانہ کلچر کے فروغ کی علامات ابھر رہی ہیں۔

شام کے لوگ خود اپنے شام کی نئی شناخت کے معمار بن گئے ہیں۔ وہ یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ حقیقی تعمیر نو سماجی، سیاسی، اور اخلاقی تجدید کے نتیجے میں ہی ممکن ہو گی۔

شامی عوام اپنی قومی تعمیر نو کے لیے غیر معمولی طور پر کمٹڈ ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انصاف و مفاہمت کے لیے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ بہت ساری برادریوں نے اپنے سالہا سال سے چلے آنے والے جھگڑوں کر ختم کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے جو سابقہ آمریت کی پیداوار تھے۔

شام کے لوگ ایک سماجی ہم آہنگی کے قیام کے لیے کوشاں ہیں اور ایک ایسے نظام کی خواہش کر رہے ہیں جو بلا امتیاز جوابدہی کے احساس اور شہری ذمہ داریوں کے اوصاف سے متصف ہو۔ اس عمل میں اب شام کے لوگ نئے شام کی شناخت کے آرکیٹیکٹ بن رہے ہیں۔ وہ ایک حقیقی تعمیر نو چاہتے ہیں۔ جو فزیکل سٹرکچر سے زیادہ سماجی، سیاسی اور اخلاقی تجدیدی رویے پر مبنی ہو۔

نئی حکومت کی طرف سے مثبت اقدامات

شامی حکومت نے بشار رجیم کو الوداع کرنے کے بعد استحکام کی پالیسیوں کی طویل مدتی بنیادوں کے ساتھ شروعات کی ہے۔ یہ نئی حکومت تعمیر نو اور ترقی کو اہمیت دیتی ہے اور سمجھتی ہے کہ تعمیر و نو اور ترقی کا امکان سلامتی و استحکام اور امن و امان کے بغیر ممکن نہیں جو صرف قانون کی بالادستی کے نتیجے میں ہو سکتے ہیں۔

نئی شامی حکومت کئی محاذوں پر کام کر رہی ہے۔ وہ ایک طرف دوسرے ملکوں کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کے لیے کوشاں ہے تو دوسری طرف اندرونی سلامتی اور انتظامی امور کو مستحکم کر رہی ہے۔ غلط سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے۔ منشیات کی نقل و حمل کو روک رہی ہے اور عوام کی سلامتی کو اپنی ترجیح بنائے ہوئے ہے۔

سفارتی حوالے سے نئی حکومت شام کو علاقائی کمیونٹیز کے ساتھ از سر نو جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہمسایوں کے ساتھ رابطوں کے راستے کھول رہی ہے۔ خود کو کثیر جہتی مذاکرات میں شامل کیے ہوئے ہے اور امن و تعاون کے بیانیے کو لے کر چل رہی ہے۔ ماضی کی ساری دشمنیوں کو بھی وہ پس پشت ڈال کر آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ اس اپروچ نے نہ صرف یہ کہ شام کی علاقائی سطح پر پوزیشن کو بہتر کیا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی شام کے لیے حمایت اور استحکام و ترقی کی خواہش کو بڑھاوا دیا ہے۔

اندرون ملک بہتری لانے کے لیے شام کی نئی حکومت ٹھوس اقدامات کر رہی ہے تاکہ تعمیر نو اور انفراسٹرکچر کی بحالی کا کام آگے بڑھ سکے، معاشی مواقع پیدا ہو سکیں، بجلی و توانائی کی بحالی کی کوششیں بروئے کار ہیں، آب رسانی اور ٹرانسپورٹیشن کے نیٹ ورکس پر کام کیا جا رہا ہے، روزگار کے مواقع بڑھانے کی کوشش ہے، تعلیم کی ترقی کے لیے نجی شعبے کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، قانون کی بالادستی اور یکساں احتساب کے ایسے اشارے مضبوط کیے جا رہے ہیں جو شام میں کرپشن کے خاتمہ کا باعث بنیں۔ جو ایک زمانے میں شام کی شناخت بن چکے تھے مگر اب ان کے لیے کوئی برداشت نہیں ہو گی۔

تعمیر نو اور ترقی کے درپیش چیلنجز

نمایاں ترقی کی کوششوں کے باوجود شام کو اس وقت بھی کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ سالہا سال تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے نتیجے میں ہو چکی تباہی سے نمٹنے کے لیے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ تاکہ لوگوں کے لیے گھر بن سکیں، سڑکیں تعمیر کی جا سکیں، سکول اور ہسپتال قائم ہو سکیں۔ معاشی بحالی کا یہ عمل پیچیدہ بھی ہے اور کئی برسوں پر محیط بھی۔ افراط زر، افلاس کی حالت دگرگوں ہے اور کئی طبقات بنیادی ضروریات اور خدمات سے بھی محروم ہیں۔ سماجی حوالے سے قوم لازماً مفاہمت کے لیے نازک مراحل سے گزر رہی ہے۔ تاکہ مختلف طبقات میں ہم آہنگی بڑھے اور مسائل سے نجات مل سکے جو پچھلی رجیم کے دور میں مسلط رہے۔

اعتماد سازی کی کوششوں کے علاوہ ناراضگیوں کو دور کرنے کی کوششیں اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کا کلچر انتہائی ضروری ہے۔ اس کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے سیاسی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔ یہ آج کی بھی ضرورت ہے اور آنے والے وقتوں کی بھی ضرورت ہے۔ بہر حال امید یہی ہے کہ بین الاقوامی حمایت، علاقائی شراکت داری، اور شامی عوام کی غیر متزلزل استقامت کے زبردست امتزاج سے ایک مضبوط بنیاد فراہم ہو سکے گی۔

اگرچہ راستہ لمبا ہے۔ لیکن ترقی کے ایک واضح فریم ورکاور مشترکہ ویژن کے علاوہ امید کے ساتھ ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ بلا شبہ ایک سال کا دورانیہ شام کو تبدیلی کی دہلیز کی طرف لے جانے والا ہے۔ پچھلے دور میں ایسا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

شام کے باسیوں کے پاس اب یہ بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی زندگیاں دوبارہ خود سے جینے کے راستے پر آئیں۔ اپنے ملک کی تعمیر نو کریں اور اپنی تقدیر بھی خود اپنے ہاتھ میں لیں۔ یہ سفر آسان نہیں ہے۔ سفر لمبا اور وقت لینے والا بھی ہے۔ مگر بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر نو، معاشی استحکام اور کی شروعات کے لیے ایک مختلف حکومت بھی موجود ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک شفاف، جوابدہ حکومت کی تشکیل میں بھی دہائیاں نہیں تو برسوں ضرور لگیں گے۔

شام میں رجیم کی تبدیلی کا ایک سال ہو چکا ہے۔ اس دوران کافی بہتری کی علامات سامنے آئی ہیں۔ شام کے لوگ اپنے ملک کو آگے بڑھانے کی کوشش میں ہیں۔ جبکہ علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں ان کی کوششوں کو مزید تقویت دینے کے لیے موجود ہیں۔

پہلے سال میں جس چیز نے سب سے زیادہ امید بڑھائی ہے وہ عوامی جذبہ حوصلہ، لچک اور امید ہے۔ شامی عوام اپنے اور اپنے ملک کے مستقبل کے حوالے سے پر عزم ہیں۔ ان کی ہمت اور عزم تعمیر نو کے لیے انسانی صلاحیتوں کے طور پر نمایاں ہے۔

شامی قوم کے پاس یہ موقع آ گیا ہے کہ نہ صرف اپنے ماضی کے سائے سے خود کو نکالے بلکہ آزادی، وقار اور خوشحالی سے جڑے مستقبل کی طرف پیش قدمی کرے۔ آخر میں یہ بھی کہنا ضروری ہے کہ بشار رجیم کا خاتمہ شام کی کہانی کا خاتمہ نہیں ہے۔ بلکہ ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ شام کے مستقبل کے نئے باب کا، شام کی تاریخ کے نئے باب کی شروعات کا۔

کیونکہ ایک سال بعد شامی عوام اپنے گھروں کی تعمیر نو کے لیے پر عزم ہیں۔ اپنی کمیونٹیز کی حیثیت بحال کرنے کے لیے تیار اور اپنے ملک کو نئی شناخت دینے کے لیے تیار ہیں۔

اس کے لیے شام کے عوام انتھک نظر آ رہے ہیں۔ اگرچہ چیلنج بھی ابھی بہت بڑے ہیں۔ اندرون ملک پایا جانے والا عزم اور بیرونی دنیا سے ملنے والا تعاون ترقی کے راستہ کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ بشار الاسد کے بغیر شام کا یہ پہلا سال ظاہر کر رہا ہے کہ کئی دہائیوں کے جبر اور جنگ کے بعد بھی ایک قوم بیدار ہو سکتی ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size