تیل کے فانوس کی وجہ سے 361 برطانوی ہلاک ہونے کی المناک کہانی

1866 کے دھماکے نے برطانوی حکام کو کھدائی کے دوران حفاظت کے مسائل پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

انیسویں صدی میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنا مزدوروں کے لیے شدید خطرہ تھا، کیونکہ انہیں دھماکوں اور کانوں کے منہدم ہونے کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

انگلینڈ کے یورکشائر میں 1857 میں ایک کان کے دھماکے میں 189 افراد ہلاک ہو ئے۔ لنکشائر کے ووڈ بیٹ میں 1878 میں ایک اسی طرح کے حادثے میں تقریباً 180 مزدور جان سے گئے تھے۔ یورکشائر میںہی 1866 کو اوکس میں 300 سے زائد مزدور اور امدادی کارکن مارے گئے،یہ انگریزی کانوں کی تاریخ میں سب سے بدترین حادثہ شمار ہوتا ہے۔

کان کن مزدوروں کی سخت زندگی کے حالات

اگرچہ کچھ ایسے قوانین موجود تھے، جو بچوں کو کانوں میں کام کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے تھے، لیکن انیسویں صدی کے وسط میں بہت سے بچے اور نوجوان کانوں میں کام کرتے تھے۔ اس دوران یہ بچے اور نوجوان زیادہ تر مردوں کے لیے مخصوص کام انجام دیتے تھے ،جیسے بھاری گاڑیاں کھینچنا، کوئلہ نکالنا اور جمع کرنا۔

علاوہ ازیں بچوں کو ان کی چھوٹی جسامت کی وجہ سے تنگ جگہوں سے گزرنے اور ہواداری کے لیے سوراخ کھودنے کے کام میں استعمال کیا جاتا تھا۔کانوں کے اندر مزدوروں کو سخت کام کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جہاں وہ دھول، کانوں سے خارج ہونے والی زہریلی گیسوں، مکمل اندھیرے، زیادہ گرمی اور شدید تھکن کا شکار ہوتے تھے۔

علاوہ ازیں زیادہ تر وقت وہ چھوٹے کانوں کی نالیوں میں کام کرتے اور ایک مزدور کو تقریباً روزانہ 14 گھنٹے ہفتے کے 6 دن کام کرنے پر مجبور کیا جاتا، جس کے بدلے بالغ مزدور کو روزانہ 6 شلنگ 12 سے 17 سال کے مزدور کو 2 شلنگ اور 12 سال سے کم عمر مزدور کو ایک شلنگ سے بھی کم ملتا تھا۔

ان سخت حالات کے علاوہ مزدور مختلف بیماریوں جیسے ٹائیفائیڈ اور کولیرا کا شکار بھی ہوتے تھے اور اپنے کام کے قریب بنائی گئی ٹن کے مکانات میں محدود اورناقص غذاپر مشتمل کھانے کھاتے تھے، جو زیادہ تر آلو، روٹی اور چائے پر مشتمل ہوتے تھے۔

361 ہلاکتیں

12 اور 13 دسمبر 1866 کے درمیان انگلینڈ میں ایک بڑی کان حادثے نے مزدوروں کی مشکلات کو اجاگر کیا گیا۔ 12 دسمبر 1866 کی شام تقریباً ایک بجے یورکشائر کے بارنسلی میں واقع اوکس کان میں میتھین گیس کے جمع ہونے کی وجہ سے ایک زبردست دھماکہ ہوا۔

کئی ذرائع کے مطابق اس دھماکے کی وجہ کان میں استعمال ہونے والے تیل کے فانوس تھے، کیونکہ کان میتھین گیس سے بھرے ہوئے تھے ،جو آسانی سے آگ پکڑ سکتی تھی۔

پہلے دھماکے کے بعدکئی مزدور جاں بحق ہو گئے جبکہ دیگر کانوں میں پھنس گئے۔بعد میں ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور پھنسے ہوئے مزدوروں کو بچانے کی کوششیں شروع کیں۔ اگلے دن کان میں ایک اور شدید دھماکہ ہوا، جس میں کئی ریسکیو اہلکار ہلاک ہو گئے اور باقی مزدوروں کا مقدر طے ہو گیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 12 اور 13 دسمبر 1866 کے درمیان اوکس کان کے دھماکے میں 361 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 27 ریسکیو اہلکار اور کئی بچے شامل تھے۔

حادثے کے بعد حکام نے لاشیں نکالنے اور تلاش و کھدائی کا کام شروع کیا۔ تاہم تمام لاشیں نہیں مل سکیں اور کچھ کی شناخت ان کے جلے ہوئے جسم کی وجہ سے مشکل تھی۔ چند دن بعد بارنسلی میں ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔

اوکس کان کے دھماکے نے برطانوی سیاستدانوں میں غصہ پیدا کیا اور انہوں نے کانوں میں حفاظتی اقدامات پر دوبارہ غور شروع کیا۔ اس کے بعد کانوں میں حفاظتی اقدامات کو مضبوط کیا گیا اور مزدوروں کے لیے زیادہ محفوظ روشنی کے آلات استعمال کرنا لازمی قرار دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں