برطانیہ نے سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے چار سرکردہ کمانڈروں پر پابندیاں عائد کر دیں۔ ان میں فورسز کی قیادت میں دوسرے نمبر پر موجود کمانڈر بھی شامل ہے۔ ان افراد پر نیم فوجی فورس اور باقاعدہ فوج کے درمیان جاری جنگ کے دوران سنگین مظالم کے ارتکاب کا الزام ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر کے بیان کے مطابق عائد کی گئی پابندیاں براہ راست ان افراد کو نشانہ بناتی ہیں جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اجتماعی قتل، بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے اور منظم اور دانستہ طور پر زیادتی کو جنگی ہتھیار بنانے جیسے ہولناک جرائم کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں اور ان جرائم پر مجرموں کو ہر صورت میں سزاملنی چاہیے۔
پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد
جمعہ کے روز جن ریپڈ سپورٹ فورسز کے عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی گئیں ان میں عبد الرحیم حمدان دقلو شامل ہیں جو اس فورس کے سربراہ محمد حمدان دقلو المعروف حمیدتی کے بھائی ہیں۔
عبدالرحمن حمدان دقلو
ریپڈ سپورٹ فورسز کے نائب سربراہ اور حمیدتی کے ایک دوسرے بھائی عبدالرحمن حمدان دقلو کے بارے میں معقول شواہد موجود ہیں کہ وہ اجتماعی قتل، نسلی بنیادوں پر پھانسیوں، منظم جنسی تشدد بشمول اجتماعی زیادتی، تاوان کے لیے اغوا، من مانی حراست اور طبی مراکز اور امدادی کارکنوں پر حملوں میں ملوث رہے یا ان کے ذمہ دار تھے۔
جدو حمدان احمد
یہ ریپڈ سپورٹ فورسز کے شمالی دارفور سیکٹر کے کمانڈر ہیں۔ ان پر اجتماعی قتل، جنسی تشدد، اغوا اور طبی عملے اور امدادی کارکنوں پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
عبدالرحمن حمدان دقلو
عبدالرحمن حمدان دقلو ریپڈ سپورٹ فورسز کے بریگیڈیئر کے عہدے پرفائز ہیں۔ ان پر نسلی اور مذہبی بنیادوں پر افراد کے خلاف تشدد اور دانستہ طور پر شہریوں کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔
تیجانی ابراہیم موسیٰ محمد
تیجانی ابراہیم موسیٰ محمد ریپڈ سپورٹ فورسز کے فیلڈ کمانڈرہیں۔ ان پر الفاشر میں شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کے الزامات ہیں۔
یورپی اور امریکی اقدامات
یورپی یونین نے بھی گذ شتہ نومبر میں عبد الرحیم حمدان دقلو پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکہ نے منگل کے روز ایک ایسے نیٹ ورک پر پابندیاں لگائیں جس کے زیادہ تر ارکان کولمبیائی تھے اور جو سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے لیے جنگجو بھرتی کر رہا تھا۔
ادھر لندن نے جمعہ کے روز سوڈان کے لیے 21 ملین پاؤنڈ اضافی ہنگامی انسانی امداد کا اعلان کیا جس کے بعد رواں سال کے آغاز سے اب تک برطانوی امداد کی مجموعی مالیت 146 ملین پاؤنڈ تک پہنچ گئی ہے۔
بارہ ملین بے گھر افراد
سوڈان میں 15 اپریل سنہ 2023ء سے جاری جنگ جو فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان اور ان کے سابق نائب محمد حمدان دقلو حمیدتی کی قیادت میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان لڑی جا رہی ہے، کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً بارہ ملین افراد ملک کے اندر بے گھر یا بیرون ملک پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اس جنگ نے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق سوڈان اس وقت دنیا کے بدترین انسانی بحران سے دوچار ہے۔
اکتوبر کے آخر میں دارفور میں فوج کے آخری مضبوط گڑھ الفاشر پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے کے بعد لڑائی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا۔
عینی شاہدین اور زندہ بچ جانے والوں نے اجتماعی قتل، نسلی بنیادوں پر تشدد، اغوا، زیادتی اور دیگر جنسی حملوں کی گواہیاں دی ہیں۔
-
برطانیہ نے سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کی سینئر قیادت پر پابندیاں عائد کر دیں
برطانیہ کی وزیر خارجہ کے مطابق سوڈان میں پیش آنے والے شرم ناک واقعات انتہائی خوف ...
بين الاقوامى -
سوڈان کا فوجی طیارہ گر کر تباہ، عملہ ہلاک: ذرائع
دو فوجی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ فوجی نقل و حمل کرنے والا ایک سوڈانی طیارہ ...
بين الاقوامى -
الفاشر میں جنسی تشدد کی صورت حال غیر معمولی ہو چکی ہے : سوڈانی خاتون وزیر
سوڈان میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری جنگ کے دوران وزارتِ سماجی بہبود ...
بين الاقوامى