جوہری ایجنسی کے رویے سے مایوس ہیں، مسئلہ حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا:ایران

عالمی توانائی ایجنسی کے "غیر منصفانہ" رویے کے باعث پیش رفت ممکن نہیں: ایرانی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ مسئلے کے جلد حل ہونے کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ موجودہ حالات میں اور ایجنسی کی جانب سے غیر منصفانہ طریقہ کار اپنائے جانے کی وجہ سے نیز صرف ایک فریق کو مورد الزام ٹھہرائے جانے کے باعث یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکے گا۔

انہوں نےمزید کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی بار بار ایسے بیانات اور دعوے دہراتے ہیں جو زمینی حقائق کے منافی ہیں۔

اسماعیل بقائی نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ گروسی اور توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات پر ہونے والے غیر قانونی حملوں کی حقیقت کی جانب سرسری اشارہ تک نہیں کیا جو ان کے بقول امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے۔

مکمل اور فوری تعاون کا مطالبہ

واضح رہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے گذشتہ ماہ نومبر میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں ایران سے مکمل اور فوری تعاون کا مطالبہ کیا گیا تھا اور ایجنسی کے معائنہ کاروں کو افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے متعلق درست معلومات فراہم کرنے پر زور دیا گیا تھا ۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے تہران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کے باوجود ایران کے پاس ہتھیار بنانے کی حد کے قریب لے جانے والا افزوزدہ یورینیم موجود ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی نے ساتھ ہی ایران سے اپنی جوہری تنصیبات تک رسائی دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ تہران نے اقوام متحدہ کی اس ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کر دیا تھا اور اس پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے ایرانی جوہری تنصیبات سے متعلق معلومات اسرائیل کو فراہم کرنے میں کردار ادا کیا اور اسرائیلی اور امریکی حملوں کی مذمت سے بھی گریز کیا۔ یہ صورتحال اس جنگ کے بعد پیدا ہوئی جو اسرائیل نے گذشتہ جون میں شروع کی اور جو 12 دن تک جاری رہی۔

یہ جنگ ایسے وقت میں ہوئی جب امریکہ اور ایران کے درمیان سلطنت عمان کی ثالثی میں سنہ 2025ء کے دوران جوہری مذاکرات کے پانچ دور منعقد ہو چکے تھے تاہم کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا جا سکا تھا۔ جب تہران کا وفد چھٹے دور کی تیاری کر رہا تھا تو اسرائیل نے ایرانی سرزمین پر اچانک حملہ کر دیا جس میں بعد ازاں واشنگٹن بھی شامل ہو گیا اور امریکی طیاروں نے ایران کے اندر اہم جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں