پاکستان سمیت کئی ممالک کے رہنماؤں نے اتوار کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے مشہور ساحل بونڈائی بیچ پر ہونے والے فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی ہے جس میں 12 افراد قتل اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے آسٹریلیا میں بونڈائی بیچ پر ہونے والے حملے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم آسٹریلیا کی حکومت اور عوام کے ساتھ اس مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہیں۔‘
شہباز شریف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔‘
بونڈائی کے ہلاکت خیز واقعے کے تناظر میں عالمی رہنماؤں کے درج ذیل تبصرے اور ردعمل سامنے آیا ہے:
انتھونی البانی، وزیرِ اعظم آسٹریلیا
"بونڈائی کے مناظر چونکا دینے والے اور تکلیف دہ ہیں۔ پولیس اور ہنگامی امدادی کارکنان جانیں بچانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ میری ہمدردیاں ہر متأثرہ شخص کے ساتھ ہیں۔"
سوسن لی، آسٹریلیا کی اپوزیشن لیڈر
"آسٹریلوی باشندے آج رات گہرے سوگ میں ہیں، نفرت انگیز تشدد ایک مشہور آسٹریلوی برادری کے دل پر حملہ آور ہے، بونڈائی جسے ہم سب بخوبی جانتے ہیں اور پیار کرتے ہیں۔"
کیئر سٹارمر، برطانیہ کے وزیرِ اعظم
"آسٹریلیا سے انتہائی تکلیف دہ خبر ہے۔ برطانیہ بونڈائی بیچ پر خوفناک حملے سے متأثرہ ہر فرد کے لیے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔"
کرسٹوفر لکسن، نیوزی لینڈ کے وزیرِ اعظم
"آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ دوستوں سے زیادہ قریب ہیں، ہم ایک خاندان ہیں۔ میں بونڈائی کے پریشان کن مناظر سے حیران ہوں، ایک ایسی جگہ جہاں کیوی باشندے روزانہ آتے ہیں۔ میری اور نیوزی لینڈ کے تمام لوگوں کی ہمدردیاں متأثرین کے ساتھ ہیں۔"
جدعون سار، اسرائیل کے وزیرِ خارجہ
"میں آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں حنوکۃ (عید الانوار) کی ایک تقریب میں قاتلانہ حملے پر دہشت زدہ ہوں۔ یہ گذشتہ دو سالوں کے دوران آسٹریلیا کی گلیوں میں یہود مخالف ہنگامہ آرائی کے نتائج ہیں اور 'انتفاضہ کی عالمگیری' کے یہود مخالف اور اشتعال انگیز مطالبات آج حقیقت بن گئے ہیں۔"
ارزولا فان ڈئر لاین، یورپی کمیشن کی صدر
"میں بونڈائی بیچ پر ہونے والے المناک حملے سے صدمے میں ہوں، متأثرین کے اہلِ خانہ اور عزیزوں سے دلی تعزیت کرتی ہوں۔ یورپ ہر جگہ آسٹریلیا اور یہودی برادریوں کے شانہ بشانہ ہے۔ ہم تشدد، یہود دشمنی اور نفرت کے خلاف متحد ہیں۔"