یمن کی جنوبی عبوری کونسل کے ترجمان انور التمیمی نے کہا ہے کہ حضرموت اور المہرہ کی جانب کونسل کی پیش قدمی طے شدہ معاہدوں پر عمل درآمد کے تحت اور یمن میں آئینی دائرے کے اندر کی گئی ہے۔
انہوں نے "العربیہ" اور الحدث سے گفتگو میں کہا کہ حضرموت میں کونسل کی کارروائی کا مقصد حوثی گروہ کو اسلحہ اسمگلنگ سے روکنا ہے ، اس بات پر زور دیا کہ حضرموت اور المہرہ میں کونسل کے اقدامات یمنی آئینی حکومت کے مفاد میں ہیں۔
کشیدگی میں اضافہ
گذشتہ ہفتوں کے دوران حضرموت قبائلی اتحاد، حضرمی ایلیٹ فورسز اور دیگر سکیورٹی یونٹس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ کشیدگی جنوبی عبوری کونسل کی ان فورسز کی تعیناتی کے بعد بڑھی جو صوبے سے باہر سے آ کر ان مقامات پر تعینات ہوئیں جہاں پہلے مقامی فورسز انتظام سنبھالے ہوئے تھیں۔
قبائلی اتحاد نے مقامی وسائل کے تحفظ کے لیے المسيلہ کے آئل فیلڈ میں واقع تنصیبات پر کنٹرول کا اعلان بھی کیا۔
دوسری جانب مقامی حکام اور عسکری کمانڈروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات بدامنی کے دروازے کھول سکتے ہیں اور ملک کے اہم ترین تیل پیدا کرنے والے صوبوں میں سماجی ہم آہنگی کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں کشیدگی کم کرنے اور ایسے کسی بھی قدم سے گریز کی اپیل کی جا رہی ہے جو اندرونی تصادم کا سبب بنے۔
یک طرفہ اقدامات کی مخالفت
مشرق یمن میں حالات کے تیزی سے بدلنے کے بعد ریاض نے حضرموت میں جنوبی عبوری کونسل کے یکطرفہ اقدامات کو فوری طور پر مسترد کر دیا۔ سعودی عرب نے ان اقدامات کو یمن کے عبوری مرحلے کی بنیادوں کی کھلی خلاف ورزی، آئینی حکومت کی اتھارٹی کو کمزور کرنے، استحکام کے لیے سنگین خطرہ اور سیاسی عمل کے مستقبل کے لیے نقصان دہ قرار دیا، ساتھ ہی اسے قانونی اور سیاسی فریم ورک کو نظرانداز کرنے اور یمن میں حوثی ملیشیا کے طرز عمل کو اپنانے کی کوشش کہا۔
اسی تناظر میں سعودی عرب نے حضرموت صوبے پر جنوبی عبوری کونسل کے کنٹرول کو قطعی طور پر مسترد کرنے پر زور دیا اور ان تمام حرکات کی بھی مخالفت کی جو یمن کے اندر کشیدگی اور عدم اعتماد کی فضا پیدا کریں، نیز طاقت کے ذریعے نیا زمینی حقائق مسلط کرنے یا صوبے کو اندرونی تنازعات کی طرف دھکیلنے کی کوششوں سے خبردار کیا۔