جنگ سے تباہ شدہ عمارات پر طوفان کی مصیبت، لاشوں کی بازیابی مشکل ہو گئی
ملبہ ہٹانے کے لیے درکار بھاری مشینری اور ضروری امدادی سامان کے داخلے کی اجازت نہیں
غزہ میں حکام نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ تباہ شدہ فلسطینی انکلیو میں شدید بارش کے باعث جنگ سے تباہ شدہ مزید عمارات منہدم ہو سکتی ہیں اور کہا کہ خراب موسم کی وجہ سے ملبے تلے دبی لاشوں کی بازیابی مشکل ہو رہی تھی۔
جمعہ کے روز طوفان سے غزہ میں دو عمارات منہدم ہو گئیں جس سے صحت کے مقامی حکام کے مطابق کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس طوفان کے سیلابی ریلے میں خیمے بھی بہہ گئے اور ہلاکتیں ہوئیں۔
اکتوبر میں جنگ بندی نافذ ہو جانے کے بعد بھی انسانی ہمدردی کے ادارے کہتے ہیں کہ غزہ میں بدستور بہت کم امداد پہنچ رہی ہے جہاں تقریباً پوری آبادی بے گھر ہے۔
غزہ کے شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بے گھر فلسطینیوں کے لیے خیموں کے بجائے موبائل گھر اور کارواں فراہم کرے۔
انہوں نے کہا، "اگر آج لوگوں کو تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو ہم مزید متأثرین اور ان عمارات کے اندر لوگوں، بچوں، خواتین اور پورے پورے خاندانوں کو مرتے ہوئے دیکھیں گے۔"
باپ کو معلوم ہوا کہ اس کا گھر منہدم اور بچے جاں بحق ہو گئے
محمد نصر اور ان کا خاندان ایک چھے منزلہ عمارت میں رہائش پذیر تھے جسے جنگ کے شروع میں اسرائیلی حملوں سے بری طرح نقصان پہنچا تھا اور پھر وہ جمعہ کو منہدم ہو گئی۔
ان کے خاندان کو متبادل رہائش تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا اور گذشتہ خراب موسم کے دوران خیمے میں رہتے ہوئے وہ سیلاب کی زد میں آ گئے تھے۔ نصر جمعہ کے روز کچھ ضروری اشیاء کی خریداری کے لیے باہر گئے تھے اور جب واپس لوٹے تو دیکھا کہ امدادی کارکنان ملبے سے لاشیں نکالنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔
"میں نے اپنے بیٹے کا ہاتھ زمین کے نیچے سے باہر نکلا ہوا دیکھا۔ یہ وہ منظر تھا جس کا مجھ پر شدید ترین اثر ہوا۔ میرا بیٹا زمین کے نیچے ہے اور ہم اسے باہر نہیں نکال سکتے،" نصر نے کہا۔ ان کا 15 سالہ بیٹا اور اسی طرح ایک 18 سالہ بیٹی جاں بحق ہو گئے۔
مزید امداد کی اجازت دینے کے لیے اقوامِ متحدہ کا فوری مطالبہ
بعد ازاں پیر کو انروا کے سربراہ نے غزہ میں بلا تاخیر مزید امداد کے داخلے کی اجازت کا مطالبہ کیا تاکہ مزید بے گھر خاندانوں کو سنگین خطرے سے بچایا جا سکے۔
انروا کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے ایکس پر پوسٹ کیا، "طوفان بائرن کی وجہ سے شدید بارش اور سردی سے غزہ کی پٹی میں لوگ ٹھٹھر کر موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا، "پانی بھرے کھنڈرات منہدم ہو رہے ہیں جہاں لوگ پناہ گزین ہیں۔ اس سے انہیں مزید سردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔"
لازارینی نے کہا، ان کے پاس امدادی سامان ہے جس کے غزہ میں داخلے کا مہینوں سے انتظار ہے اور جو ان کے مطابق بیس لاکھ سے زائد آبادی کی لاکھوں کی ضروریات پوری کرے گا۔
اقوامِ متحدہ اور فلسطینی حکام نے کہا کہ تقریباً 1.5 ملین بدستور بے گھر افراد کے لیے کم از کم 300,000 نئے خیموں کی فوری ضرورت ہے۔ موجودہ پناہ گاہیں زیادہ تر بوسیدہ ہو چکی یا پلاسٹک اور کپڑے کی پتلی چادر سے بنی ہیں۔
ترجمان اسماعیل الثوابتہ نے کہا کہ دریں اثناء غزہ کے حکام ملبے تلے دبی ہوئی تقریباً 9,000 لاشوں کی بازیابی کے لیے ہنوز کھدائی کر رہے ہیں لیکن ان کے پاس کام تیز کرنے کے لیے درکار مشینری کی کمی ہے۔
پیر کے روز امدادی کارکنوں نے دسمبر 2023 میں بمباری زدہ ایک کثیر المنزلہ عمارت سے تقریباً 20 افراد کی باقیات برآمد کیں جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہاں 30 بچوں سمیت تقریباً 60 افراد پناہ گزین تھے۔
حماس کے زیرِ قیادت حکام نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے تحت وعدے کے مطابق اسرائیل مطلوبہ امداد کی اجازت نہیں دے رہا۔ امدادی ادارے کہتے ہیں کہ اسرائیل ضروری اشیاء کو روک رہا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کہتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے اور ایجنسیوں پر نااہلی اور حماس کی طرف سے امدادی سامان کی چوری روکنے میں ناکامی کا الزام لگاتا ہے۔ حماس اس الزام کی تردید کرتا ہے۔