صدر ٹرمپ مغربی کنارے کے کسی حصے کے اسرائیل سے الحاق کی اجازت نہیں دیں گے: امریکہ

اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی آبادکاری سنہ 2017ء کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ میں امریکہ کی نائب مستقل مندوب جینیفر لوسیٹا نے زور دے کر کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مغربی کنارے کے کسی حصے کے انضمام کی اجازت نہیں دیں گے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کو توقع ہے کہ مغربی کنارے میں تشدد کا خاتمہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ بدستور اسرائیل کی سکیورٹی، غزہ اور مغربی کنارے کے استحکام پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح کرچکے ہیں کہ امریکہ مغربی کنارے میں تشدد کے خاتمے کی توقع رکھتا ہے اور اس کے کسی حصے کے الحاق کی اجازت نہیں دے گا۔

مغربی کنارے کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران مشرق وسطیٰ امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے نائب خصوصی رابطہ کار رامز الاکبروف نے اسرائیلی آبادکاری میں توسیع کی مذمت کی اور کہا کہ یہ توسیع سنہ 2017ء میں اقوام متحدہ کی جانب سے نگرانی شروع کیے جانے کے بعد سب سے بلند سطح پر پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سنہ 2025ء میں اسرائیلی آبادکاری کی پیش رفت بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔ مغربی کنارے کے شمال میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان، نقل مکانی اور وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، خاص طور پر پناہ گزین کیمپوں میں بڑی تعداد میں لوگ بے گھر کیے گئے ہیں۔ ان کیمپوں میں اسرائیلی سکیورٹی موجودگی کا تسلسل غیر قانونی قبضے کے خاتمے سے متعلق ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب برطانیہ نے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے غٰیرمسبوق تشدد کی مذمت کی۔ اقوام متحدہ میں برطانیہ کے قائم مقام مستقل مندوب نے آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد پر لندن کی گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حملے امن کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ برطانیہ نے اسرائیلی حکومت سے اپنے وعدوں کی پاسداری کا مطالبہ کیا۔

مغربی کنارے سے متعلق پیش رفت میں سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں 19 نئی بستیوں کی تعمیر کی منظوری کی مذمت کی۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔ بیان میں فلسطینی عوام کی حمایت میں مملکت کے ثابت قدم مؤقف کا اعادہ کیا گیا اور سنہ 1967ء کی سرحدوں اور مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں