مظلوم شخص کی کہانی جسے غلطی سے پھانسی دی گئی، نتیجے میں ملک میں پھانسی کا قانون ختم

ٹموتھی ایونز کے مقدمے نے برطانیہ میں سزائے موت کے خاتمے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

قدیم زمانے سے انگلینڈ اور آئرلینڈ میں سزائے موت کا اطلاق اُن افراد کو سزا دینے کے لیے کیا جاتا رہا ہے ،جنہوں نے مختلف جرائم کیے ہوں ، چاہے وہ عام فوجداری نوعیت کے ہوں یا انھیںریاست کے خلاف جرائم میں مجرم قرار دیا جاتا تھا۔

بارہویں صدی سے ایسے واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں، جن میں غداری کے مرتکب افراد کو جسم کے ٹکڑے کر کے یا عوامی مقامات پر لٹکا کر پھانسی دی جاتی تھی۔

جادوگری اور بدعت کے الزام میں زندہ جلانے کی سزا دی جاتی رہی، جبکہ اشرافیہ اور بااثر شخصیات کے لیے سر قلم کرنے کا طریقہ اختیار کیا جاتا تھا۔ ان علاقوں میں سزائے موت کے دیگر طریقے بھی رائج رہے، جن میں کھولتے ہوئے پانی میں ابالنا اور گلا گھونٹنا شامل تھا۔
بیسویں صدی کے دوران برطانیہ میں بنیادی طور پر پھانسی یا فائرنگ کے ذریعے سزائے موت پر انحصار کیا جانے لگا۔ تاہم 1950 کی دہائی میں برطانیہ اس وقت شدید ہلچل کا شکار ہوا جب ٹِموتھی ایونز (Timothy Evans) کا مقدمہ سامنے آیا، جس نے ملک میں سزائے موت کے تسلسل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے اور اس سزا کے نفاذ پر بھرپور بحث چھیڑ دی۔

ٹموتھی ایونز کی ازدواجی زندگی

ٹموتھی ایونز 1924 میں ویلز کے شہر مرتھر ٹیڈفل (Merthyr Tydfil) میں پیدا ہوا،اس نے بچپن ہی سے سخت حالات کا سامنا کیا۔ اس کے والد نے خاندان کو چھوڑ دیا اور لاپتہ ہو گیا، جس کے باعث اس کی پرورش نہایت مشکل حالات میں ہوئی۔

تعلیمی دور میں بھی ٹموتھی ایونز زیادہ کامیاب نہ ہو سکا، کیونکہ اسے سیکھنے اور باتیں سمجھنے میں شدید دشواری پیش آتی تھی، جس کی وجہ اس کی ذہنی نشوونما میں کچھ کمی بتائی جاتی ہے۔مختلف شعبوں میں کام کرنے کے بعد ٹموتھی ایونز نے 1947 میں بیرل (Beryl) نامی لڑکی سے شادی کی۔

اگلے ہی سال ان کے ہاں ایک بیٹی جیرالڈین (Geraldine) پیدا ہوئی، جو ان کی واحد اولاد تھی۔1949 میں جب بیرل نے دوسرے بچے کے حاملہ ہونے کا اعلان کیا تو میاں بیوی کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔

اس صورتحال میں دونوں نے اس بچے کو ضائع کرنے کی کوشش کی، حالانکہ اس دور میں اسقاطِ حمل غیر قانونی سمجھا جاتا تھا۔ زیادہ تر روایات کے مطابق ان کے پڑوسی اور ریٹائرڈ پولیس اہلکار جان کرسٹی (John Christie) نے اسقاطِ حمل کروانے کی پیشکش کی اور دعویٰ کیا کہ وہ اس کام میں مہارت رکھتا ہے۔

ٹموتھی ایونزکے بیانات

30 نومبر 1949 کو ٹموتھی ایونز لندن کے ایک پولیس اسٹیشن پہنچا اور اس نے اپنی بیوی اور بیٹی کے قتل کی اطلاع دی۔ تفتیش کے دوران 25 سالہ ٹموتھی ایونز نے واقعے سے متعلق متضاد اور غیر واضح بیانات دیے۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی بیوی اور بیٹی کو قتل کر کے ان کی لاشیں اس عمارت کے قریب دفن کر دی ہیں، جہاں وہ رہتا تھا۔جب پولیس موقع پر پہنچی تو وہاں کوئی لاش نہ ملی، جس کے بعد ٹموتھی ایونز کو مزید تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔

بعد ازاں اس ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا شکار نوجوان نے ایک نیا بیان دیا، جس میں اس نے اپنے پڑوسی اور ریٹائرڈ پولیس افسر جان کرسٹی پر اپنی بیوی اور بیٹی کے قتل کا الزام عائد کیا اور خود کو بے گناہ قرار دیا۔تاہم پولیس نے ٹموتھی ایونز کی باتوں پر یقین کرنے سے انکار کر دیا اور اسے جھوٹا قرار دیا، کیونکہ جان کرسٹی پولیس کے نزدیک ایک قابلِ اعتماد شخصیت سمجھا جاتا تھا۔ تفتیش کے دوران جان کرسٹی نے پولیس کی بھرپور مدد کی اور لاشیں تلاش کرنے میں سرگرم رہا۔

سزائے موت

2 دسمبر 1949 کے قریب پولیس نے ٹموتھی ایونز کی بیوی اور بیٹی کی لاشیں برآمد کر لیں۔ اس دوران بھی ٹموتھی ایونز اپنے متضاد بیانات دہراتا رہا اور بار بار اپنے پڑوسی پر الزام لگاتا رہا۔پولیس اور عدالت کی جانب سے اس کے بیانات کو سنجیدگی سے نہ لینے کے باعث ٹموتھی ایونز کو پھانسی کی سزا سنائی گئی، جس پر 9 مارچ 1950 کو عملدرآمد ہوا۔ اس طرح ٹموتھی ایونز 25 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔

ٹموتھی ایونزکی بے گناہی

ٹموتھی ایونز کی پھانسی کے تقریباً تین سال بعد جان کرسٹی نے اپنا مکان چھوڑ دیا، جہاں بعد میں ایک نیا کرایہ دار آ کر رہنے لگا۔ کچھ ہی عرصے بعد اس نئے رہائشی کو مکان کے اندر تین لاشیں چھپی ہوئی ملیں، جس پر اس نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔
تحقیقات کے بعد پولیس کو معلوم ہوا کہ جان کرسٹی ایک سلسلہ وار قاتل تھا اور اس کی اپنی بیوی بھی اس کے ہاتھوں قتل ہونے والوں میں شامل تھی، جس کی لاش اس نے چھپا دی تھی۔مارچ 1953 کے آخر میں جان کرسٹی کو گرفتار کیا گیا اور عدالت نے اسے بھی پھانسی کی سزا سنائی، جس پر جولائی 1953 میں عملدرآمد ہوا۔

پھانسی سے قبل جان کرسٹی نے اعتراف کیا کہ ٹموتھی ایونز بے گناہ تھا اور اس نے ہی ٹموتھی ایونز کی بیوی اور بیٹی کو قتل کیا تھا۔1950 میں ٹموتھی ایونز کی ناحق پھانسی نے برطانیہ میں شدید ہلچل مچا دی۔

عوام اور ماہرین نے عدالتی نظام اور تفتیشی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے۔ آنے والے برسوں میں ٹموتھی ایونز کا مقدمہ برطانوی حکومت پر سزائے موت کے خاتمے کے لیے ایک مضبوط دباؤ بن گیا۔

1966 میں ہونے والی ایک نئی تحقیقات میں ثابت ہو گیا کہ قتل جان کرسٹی نے ہی کیا تھا۔ اس کے بعد ٹموتھی ایونز کو علامتی طور پر سرکاری معافی دی گئی۔ بالآخر 2004 میں اپنی پھانسی کے تقریباً 54 سال بعدٹموتھی ایونز کو باضابطہ طور پر بے گناہ قرار دے دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں